سفر یورپ 1924ء — Page 272
۲۷۲ گروپ کا ہوا دوسرا حضور کا تنہا۔فوٹو کے بعد پھر حضور مضمون کی درستی اور ترتیب میں لگ گئے۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مولوی محمد دین صاحب ساتھ تھے۔ساڑھے بارہ بجے کھانے کی گھنٹی ہوئی تب حضور اُٹھے۔آج دوپہر کے کھانے پر پھر وہی دمشق کا قصہ اور قادیان کی مستورات کی شکایت کا تذکرہ ہوتا رہا۔حضرت اماں جان ) کا خط اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا خط شاید حضور نے کل نہ پڑھا ہو گا آج پڑھایا آیا ہی آج ہوگا۔حضور نے فرمایا کہ حضرت اماں جان ) اور ہمشیرہ صاحبہ کا خط بھی آیا ہے۔ان خطوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں مستورات کو اس خیال سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔بعض الفاظ بھی حضور نے سنائے کہ خط کا وہ حصہ سن کر عورتیں کھڑی ہوگئیں ، ٹہلنے لگیں ، رنگ ان کے زرد ہو گئے اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے وغیرہ وغیرہ۔مگر یہ لوگ بڑے ہی رحیم کریم ہوتے ہیں اپنے غلاموں کی دلجوئی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔کہہ بھی سب کچھ لیا مگر میری دلجوئی بھی کر دی اور بنتے بنتے باتیں کیں اور یہ بھی فرمایا کہ ” بھائی جی نے اپنے آپ کو تو مستی کر لیا ہوگا تا کہ ان کے گھر میں ایسی فکر نہ لگ سکے۔الغرض آج پھر سے مسئلہ تعدّ دازدواج اور مستورات کے احساسات پر بہت دیر تک گفتگو رہی اور حضور نے فرمایا عورتیں تو خیر خود میں بھی اس احساس سے خالی نہیں۔عجیب اتفاق کی بات ہے کہ ادھر تو قادیان سے مستورات کے حالات پہنچے ہیں اُدھر دمشق سے اس وقت تو گو سب کے سب خالی ہی آگئے تھے کسی کے متعلق بھی با وجود تلاش اور کوشش کے انتظام نہ ہو سکا تھا مگر کل ہی کی ڈاک میں حضور کے پاس دمشق سے ایک معزز خاندان کی ایک لڑکی کے رشتہ کی درخواست آ بھی گئی جو علماء کا خاندان ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ وہ بالکل تیار ہیں حتی کہ حضرت مفتی صاحب کے خط کے سننے کے بعد حضرت اقدس نے حافظ صاحب کو یہ بھی فرمایا کہ حافظ صاحب اب تو آپ بذریعہ تار بھی قادیان انکار و عذر نہیں کر سکتے کیونکہ دمشق سے آج ہی بذریعہ تا را یک درخواست آ بھی گئی ہے۔مگر آج بعد کھانے کے گفتگو میں حضور نے فرمایا کہ اس رشتہ کے لئے نامزد کسی کو نہیں کیا گیا۔مولوی جلال الدین صاحب شمس ابھی بغیر نکاح کے ہیں شاید ان کے لئے تجویز ہو جائے یا کسی