سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 273 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 273

۲۷۳ اور کے لئے فیصلہ ہو جائے۔- حافظ صاحب کو بھی اس امر کا فکر بہت لگ گیا ہے۔آج کھانے کے میز پر حضرت کے حضور عرض کرتے تھے کہ حضور وہ ہفتہ واری تار حضور کب بھجوائیں گے ہفتہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔غرض ان کی یہ تھی کہ حضور جب تار بھیجیں تو اس میں ذکر کر دیں اور تسلی دلا دیں کہ نکاح کوئی نہیں ہوا۔خالی خیال ہی خیال تھا۔حضرت کی خدمت میں مختلف حصص سے خطوط آ رہے ہیں کہ ان کی سوسائیٹیوں میں حضور لیکچر دیں۔حضور کا منشاء ہے کہ تمام دوستوں کو جو لیکچر دے سکتے ہیں تقسیم کر دیا جائے اور جہاں جہاں لوگوں نے بلوایا ہے وہاں بھی اور جہاں نہیں بلوایا وہاں بھی جا کر ان میں لیکچر دیئے جائیں اور ایک دفعہ جزیرہ بھر میں سبز پگڑی والے مبلغوں کا دور دورہ ضرور ہو جائے اور لوگ ان سے واقف ہو جا ئیں۔اخبارات میں بھی موافق اور مخالف سلسلہ جاری ہی رہتا ہے۔( میرے دل میں کل سے بار بار یہ خیال موجزن ہے کہ حضرت میاں صاحب کی خدمت میں بذریعہ تار عرض کروں کہ میرے خطوط پبلک میں نہ سنائے جایا کریں حتی کہ میں نے تار کے لفظ بھی تجویز کرنے کے لئے مکر می چوہدری صاحب کی خدمت میں عرض کر دیا تھا مگر پھر رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ اس طرح سے کثرت کے ساتھ دوست اپنے محبوب محمود کے حالات سننے سے محروم رہ جائیں گے۔الغرض میں ان دونوں باتوں میں فیصلہ نہیں کر سکا کہ آیا تا ر دے کر خطوط کا سنایا جانا بند کر دوں یا قادیان کے دوستوں کی خاطر اگر کچھ ہفت ہشت ہوتی رہے تو کان دبا کرسن ہی لیا کروں۔بہر حال میں یہی چاہتا ہوں کہ دوستوں کو حضرت کے حالات پہنچتے رہیں مجھے جو تکلیف ہونی تھی ہو چکی۔) الفضل میں ہمارا سب سے پہلا تا رنہیں چھپا جس کے متعلق اخبار میں لکھا گیا ہے کہ وہ تا رملا ہی نہیں۔نہ معلوم کیوں نہیں ملا۔وہ تار دیا گیا جہاز میں سے اور ضرور دیا گیا تھا۔کم از کم دریافت تو کرنا چاہیے تھا۔