سفر یورپ 1924ء — Page 14
۱۴ کیبن ( کمرہ ) میں تشریف لے گئے جہاں ڈاکٹر صاحب حضور کی خدمت میں رہے۔کمرہ حضور کا اتنا چھوٹا ہے کہ بمشکل دوسرا آدمی وہاں گزر کر سکتا ہے۔ڈاکٹر صاحب حضرت کے حضور میں رہے اور باقی تمام بیمار دوستوں کی خدمت میرے اور مکرمی چوہدری فتح محمد خان صاحب کے حصہ آئی اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس سفر میں بھی مجھے خدمات کا موقع دیا اور اس طرح سے ان بزرگوں کو شرمندگی سے بچا لیا جنہوں نے حضور کے ہمرکاب میرے ہی آنے پر زور دیا تھا۔۱۶ / جولائی : رات گزری دوسرا دن آیا دوسرا دن بھی گزرا۔دوسری رات آئی وہ بھی گزری۔تیسرا دن آگیا۔وہ مرغوب چیزیں اور محبوب کھانے جو خشکی پر چھینا جھپٹی کر کے بھی لے لئے جایا کرتے تھے یکدم ایسے بھولے کہ ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنا بھی معیوب معلوم ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات ان کے نام لینے سے لئے آ جاتی تھی۔پورے دو دن اکثر دوستوں کے اسی حالت میں گزر گئے۔جو لیٹا اسے اُٹھنے کی ہمت نہ ہوئی۔لیٹے ہوئے کو کپڑا اوڑھنے تک کی طاقت نہ تھی۔دوائی تک بھی لیٹے لیٹے کسی کے منہ میں ڈالی جاتی تھی۔ہمارے ڈاکٹر صاحب بے چارے کرسی پر سے اسی غفلت میں ایسے گرے کہ ناک اور پیشانی پر متعدد گہرے زخم آگئے اٹھنے کی ہوش نہ رہی۔خون تک پونچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔غرض عجیب قسم کا سماں تھا جو جہاں پڑ گیا بس پڑا رہا۔اُٹھنے کو نہ دل چاہانہ ہی اُٹھنے کی ہمت ہوئی۔حضور سفر کے پہلے دن عصر کے بعد اپنے کیبن میں تشریف لے گئے۔دوسرے دن باہر تشریف نہ لائے مگر سب دوستوں کا نام بنام حال دریافت فرماتے رہے۔دوسرا دن پہلے دن سے زیادہ سخت تھا۔طوفان شروع ہو چکا تھا۔حالت بدتر ہو رہی تھی۔ہائے وائے کی آواز میں آ رہی تھیں۔بہتوں نے کچھ نہ کھایا بعض نے صرف ایک آدھ سنترہ پر دن گزار دیا۔۱۷ جولائی ، تکالیف میں اضافہ: تیسرے دن طوفان کا اور بھی زور تھا اور حالت خطر ناک نظر آتی تھی۔میاں رحمدین کہتا تھا کاش واپس جانے کا کوئی راستہ ہوتا اور میں واپس جا سکتا۔کبھی معلوم کرتا تھا کہ کیا لنڈن جانے کا خشکی کا کوئی راستہ نہیں ؟ کبھی مجھے کہتا تھا کہ بھائی آپ کو بھی خوف آتا ہے یا نہیں ؟ مگر جب میں نفی میں جواب دیتا تو کہتا کہ نہیں آپ کو ضرور دل میں خوف