سفر یورپ 1924ء — Page 209
۲۰۹ نام قائم رکھا جاتا ہے اور دوسری زندگی میں بھی یہ لوگ خاص ترقیات حاصل کرتے ہیں۔میں ایک دفعہ پھر آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے محبت سے میری باتوں کو سنا ہے اور اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے نور کو دنیا میں پھیلائے اور جھوٹ کی تاریکی کا پردہ چاک کرے تا اس کا روشن چہرہ دنیا پر ظاہر ہوا ور علم اور عرفان سے لوگوں کے سینے معمور ہو جائیں - واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين مرز امحمود احمد آج ڈاک ہند ۲۰ / اگست ۱۹۲۴ء کی یہاں پہنچی ہے اور ایک تھیلا کٹک کے ہاں سے بھی آیا ہے۔حضور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کو ساتھ لے کر غالبا کسی ڈاکٹر کو آنکھ دکھانے گئے ہیں۔مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور مولوی محمد دین صاحب بھی سیر کو تشریف لے گئے ہیں۔چوہدری فتح محمد خان صاحب اور خان صاحب ہال کے انتظام سے فارغ ہو کر آ گئے ہیں۔ایس ایکس (S۔X) نام کا کوئی ہال ۴ پونڈ کرایہ پر لیا گیا ہے۔اس میں پانچ سو آدمی کی گنجائش بتائی جاتی ہے اور شہر کے مرکز میں واقع ہے۔۱۷ ستمبر بروز بدھ جلسہ کی تاریخ مقرر ہوئی ہے جس کے لئے اشتہا رلکھ کر بغرض طبع پر لیں میں دے دیا گیا ہے اور اخبارات میں بھی نوٹ دے دیا گیا ہے۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مسٹر داس گپتا اور کسی اور انگریز کا نام شائد مشتہرین و داعین میں ہوگا۔کل صبح کو ایک جلسہ کیا جائے گا کہ جس میں تمام مقامی دوستوں کو جمع کر کے مشورہ لیا جاوے گا کہ اس جلسہ کو کامیاب بنانے کے واسطے کس طرح کام کیا جاوے اور تقسیم عمل کیا ہے یعنی کون پادریوں کے پاس جاوے کہ ان میں تحریک کر کے ان کو جلسہ میں شریک ہونے کو تیا ر کرے۔کون ایڈیٹروں کو تیار کرے اور کون کس حصہ پبلک میں جاوے۔دعاؤں کی ضرورت ہے۔( البيت ) برلن کی فروخت کا سوال زیر غور ہے۔برلن سے جو آخری اطلاع آئی ہے وہ یہ ہے کہ پچاس ہزار گولڈ مارک نقد اور ستر ہزار کا وعدہ جس کے لئے کسی بنگ کے نام کا کوئی تمسک دیا جائے گا مل سکتے ہیں۔نہ معلوم وہ کیا گولڈن سکہ ہے۔بہر حال حضرت اقدس نے جواب دیا ہے کہ