سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 193 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 193

۱۹۳ کس درد اور کس محبت کا اظہار ہے اور کیا ہمدردی اور شکر گزاری کا طریق جو تار کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہے۔مضمون تار حضور نے خود تجویز فرمایا اور الفاظ بھی حضور نے خود ہی اپنے قلم سے لکھے۔اصل محفوظ ہے۔مولوی عبد الرحیم صاحب دردا بھی ٹائپ کرتے تھے کہ حضرت صاحب نماز کیلئے تشریف لے آئے۔نماز پڑھائی اور پھر بیٹھ گئے۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد حضور نے حافظ روشن علی صاحب کو قرآن شریف سنانے کا حکم دیا۔حافظ صاحب نے سورہ مومنون شروع کی اور ختم کر دی۔حضور سر جھکائے چہرہ پر رومال رکھے ایک ہی حالت میں بیٹھے رہے۔جب سورۃ ختم ہوئی تو چند لمحات کے بعد حضور نے سراٹھایا اور آنکھوں کو رومال سے پونچھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ حضور کی آنکھوں میں رقت اور سوز سے آنسو آئے ہوئے تھے۔بیٹھ گئے اور خاموش تھے۔نہ معلوم کیا ذکر شروع فرماتے کہ اتنے میں میاں عزیز الدین صاحب نے کچھ اپنا ذ کر شروع کر دیا۔حضور اس طرف متوجہ ہو گئے۔تھوڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اتنے میں مولوی عبدالرحیم صاحب درد واپس آگئے۔پھر حضور نے ان سے مختلف نظمیں سنیں اور اس کے بعد اور اذکار جاری رہے۔حتی کہ رات کے ٹھیک دو بجے حضور ( البيت ) کے کمرہ سے اٹھ کر اندر تشریف لے گئے۔۵ /ستمبر ۱۹۲۴ء : نماز صبح کیلئے حضور تشریف نہیں لا سکے۔ناشتہ ساڑھے آٹھ بجے کے بعد حضور نے اپنے کمرہ میں کیا اور کانفرس مذہبی کے لئے مضمون لکھتے رہے۔حتی کہ ٹھیک بارہ بج گئے اور ایک صاحب مسٹر داس گپتا بنگالی جن کے لئے پہلے سے وقت مقرر تھا آگئے اور حضور ان کی ملاقات کے واسطے اپنے کمرہ سے باہر لائبریری میں تشریف لائے۔یہ شخص بڑا ہوشیار اور صاحب اثر معلوم ہوتا ہے۔بہت دیر تک حضرت سے باتیں کرتا رہا اور واقعہ شہادت مولوی نعمت اللہ خان صاحب کے متعلق اس نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔خوب جرح قدح کر کے حالات پوچھے۔جوش سے بھر گیا - اور حضور سے حضور کا عندیہ معلوم کیا کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ہم خاموش نہ رہیں گے بلکہ اس کے خلاف جہاں تک ممکن ہو گا کوشش کریں گے۔