سفر یورپ 1924ء — Page 181
۱۸۱ ہیں۔نظر زیادہ عورتیں ہی آتی ہیں مگر میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی عورت بے حیائی سے یا گستاخی سے کسی کو گھورتی ہو۔ہم لوگ یہاں عجوبہ ہیں اور حقیقتاً ان لوگوں کے لئے تما شا ہیں۔بعض کیا اکثر ہمیں دیکھتی ہیں مگر ان کا دیکھنا ایسا مہذبانہ ہوتا ہے کہ اس کی نظیر نہیں حتی کہ بعض ہمارے ملک کی نام کی پردہ دار عورتوں سے بھی جو دراصل بد نام کنند و کونا سے چند ہوتی ہیں زیادہ حیا اور رخص بصر سے کام لیتی ہیں۔کام کاج کی وجہ سے ان کو اپنے اکثر اعضا ننگے رکھنے پڑتے ہیں۔لیکن اگر ان کے دلوں میں ذرہ بھی ایمان کی چنگاری داخل ہو جائے تو انشاء اللہ بہت جلد ان میں پوری غض بصر کا نظارہ دیکھا جا سکتا ہے۔خدا کرے کہ جلد تر یہ لوگ اسلام اور حقیقت اسلام کو سمجھیں۔لنڈن مشن کی تبلیغی مساعی کا کوئی شمر اب تک تو نظر آیا نہیں۔خدا کرے کہ جلد تر یہ باغ بھی ہرا بھرا ہوا ور حضرت فضل عمر کی دعا ئیں ، تو جہات اور محنت و کوشش بار آور ہو آمین۔حضور نے کل رات رؤیا میں ھادی اور فضل الرحمن کو دیکھا۔ھا دی تو وہی ھادی علی خان قادیان والے ہیں مگر فضل الرحمن کوئی نیا آدمی ہے۔رؤیا : حضور نے کل یہ رویا سنایا۔اس وقت جب کہ مولوی غیر صاحب نے حضور کے کام نہ ہونے کے ذکر پر عرض کیا حضور کام بہت آنے والا ہے۔حضور دیکھیں گے کہ کام کتنا آتا ہے۔حضور کو ایک منٹ کی بھی فرصت نہ ہوگی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ کام تو خدا دے گا اور ضرور دے گا چنانچہ رات ہی اس نے مجھے تسلی دی ہے اور یہ رویا دکھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کام تو انشاء اللہ آ وے گا اور ضرور آوے گا اور فضل کے دروازے کھلیں گے اور ضرور کھلیں گے مگر محض خدا کے فضل اور رحم سے نہ آپ کی کہ کوشش سے“۔۶ ستمبر ۱۹۲۴ء : حضور آج بھی صبح کی نماز میں تشریف نہیں لائے۔ناشتہ بھی لے کر بیٹھا ہوا ہوں اور دوست ناشتہ کرتے جاتے ہیں مگر حضور نہیں تشریف لائے۔طبیعت خراب ہے جس کی وجہ سے سبھی پر اُداسی ہے۔