سفر یورپ 1924ء — Page 180
۱۸۰ کارندہ بھی Thank you sir۔Beg your parden sir وغیرہ الفاظ سے بولے گا اور ہزار چیز محبت اور ادب سے دکھائے گا۔کشادہ پیشانی ، ادب اور نرمی سے بات کرے گا۔لینا نہ لینا آپ کا کام ہے مگر حتی الوسع وہ گاہک کو خالی جانے دیا نہیں کرتے۔انسان ان کے اخلاق اور طریق تجارت سے مجبور ہو جاتا ہے کہ کچھ تو ضرور ہی خریدے۔خوش اخلاقی اور فرض کی ادائیگی : ریل گاڑیوں، بتوں اور موٹروں والے غلاموں کی طرح آپ کے احکام کی تعمیل کریں گے۔پوسٹ آفس یاد وسرے دفاتر میں جائیں زیادہ تر عورتیں ہوں گی مگر ہمارے ملک کے بد مزاج مردوں سے ہزار گنا اچھی ہیں۔محنت ، توجہ اور نرمی سے دوسرا کام چھوڑ کر بھی آپ کے حکم کی تعمیل کریں گی اور اگر اس کا کام نہیں تب بھی وہ آپ کا کام خود کر دے گی یا دوسرے سے کرا دے گی۔میں پنجاب کے ڈاک خانوں میں جانے سے اکثر گھبرایا ہی کرتا ہوں مگر یہاں کے ڈاک خانہ میں مجھے ڈاک لانے اور لے جانے کا کام ملا ہوا ہے۔ڈاک خانہ والے بہت ہی خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔بنڈل ان کے ہاتھ میں دے کر الگ کھڑا ہو جاتا ہوں۔پتا دیکھنا۔وزن کرنا۔محصول بتانا بلکہ خود ہی ٹکٹ چسپاں کر کے رسید دینا سب کام خود کرتے ہیں۔اگر کبھی رسید بھول جاؤں تو دوسرے دن دے دیا کرتے ہیں۔کام کرنا اور محنت اور دیانت داری سے کرنا۔اوقات کی پابندی سے کرنا۔کام کرنے میں عار نہ کرنا۔افسروں کی فرمانبرداری کرنا اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا ان لوگوں سے سیکھنا چاہیئے۔تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرتے ہیں۔(انرجی ) طاقت کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔وقت کی قیمت پہچانتے ہیں۔سلیقہ سے کام کرتے ہیں۔دھوکا نہیں کرتے۔عورتوں کی حیاداری : ہوں گے گندے لوگ بھی۔ہوں گے بد معاش اور عیاش لوگ بھی۔ہوں گے دھوکا باز اور دغا باز لوگ بھی ہوں گے ست اور کاہل اور کام کے چورلوگ بھی۔ہوں گے نافرمانبردار اور غدار لوگ بھی مگر میں جانتا ہوں کہ زیادہ تر شرفا ہیں۔بازار میں نکلیں تو عورتیں ہی عورتیں زیادہ نظر آتی ہیں۔نہ معلوم یہاں عورتیں ہیں ہی زیادہ یا مرد چھپے بیٹھے رہتے