سفر یورپ 1924ء — Page 98
۹۸ بیروت : گاڑی پونے پانچ بجے شام بیروت پہنچی۔سمندر میں تیرا کی اور بوٹنگ (Boating) کا عجیب منظر تھا۔سمندر کے کنارے کنارے گاڑی کی پڑی ہے۔جہاز بھی کھڑے تھے۔بہت ہی خوبصورت نظارہ تھا۔کشتیوں اور جہازوں کی اس پورٹ پر بھی عجیب ہی چہل پہل ہے۔اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے سینکڑوں نوجوان لڑکے اور مرد تیرا کی کے کرتب دکھاتے پھرتے ہیں اور بعض لوگ کشتیاں تیراتے اور دوڑاتے ہیں۔ہماری گاڑی نے ہمیں ایک بازار میں اُتار دیا جو سچ سچ بازار ہے کوئی سٹیشن کی شکل و صورت نہیں۔بازار کی دکانیں ہیں اور دوسری طرف سمندر درمیان سے ریل کی پٹڑی گزرتی ہے اس جگہ ختم ہو جاتی ہے۔سنترال ہوٹل میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح ٹھہرے ہیں اور تمام خدام ہمرکاب ہیں۔آج صبح جو مضمون حضور نے اخبارات کے لئے لکھنا شروع کیا تھا طبیعت خراب ہو جانے کی وجہ سے نامکمل رہا اور اخبارات میں کوئی مضمون نہ دیا جا سکا۔حضور نے صبح ناشتہ بھی نہ کیا تھا۔ادھر ناشتہ آیا اُدھر فوٹو گرافر ہا فاس ایجنسی کا آ گیا۔حضور نے ناشتہ نہ کیا اور فوٹو کے لئے تشریف لے گئے۔پھر سٹیشن پر آگئے طبیعت خراب ہو گئی اور اب جب کہ بیروت پہنچے ہیں طبیعت بہت ہی خراب ہے۔راستہ میں ڈاکٹر صاحب نے دوائی وغیرہ پلائی اور غالبا افیون بھی دی جس سے قبض ہو گئی اور طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔حضور نے ظہر وعصر کی نمازیں اپنے کمرہ میں ادا کی ہیں اور نمازوں کے بعد لیٹ گئے ہیں۔تکلیف بہت زیادہ ہے۔مجھے بھی بلوایا میں نے دیکھا پاؤں بالکل ٹھنڈے ہیں زور زور سے دبایا اور چاپی کی میں نے اور چوہدری علی محمد صاحب نے۔بمشکل کوئی ایک گھنٹہ کے بعد کچھ آفاقہ ہوا ہے۔حضور نے تکلیف کی شدت میں مولوی عبد الرحیم صاحب کو بلوا کر حکم دیا کہ کوئی امریکن ڈاکٹر لاویں۔عرفانی صاحب اور مولوی صاحب سارے شہر میں پھرے مگر اتوار کی وجہ سے قریباً تمام ہی ڈاکٹر مع طلبا کے اور پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر بھی اوپر کے پہاڑ پر سیر کے لئے گئے ہوئے ہیں رات کو آویں گے۔آخر ایک مسلمان ڈاکٹر کو جو ڈبلن کا ڈگری یافتہ ہے لائے ہیں جس نے اِ دھر