سفر یورپ 1924ء — Page 90
۵ بجے کے بعد ایک اخبار کے ایڈیٹر کی طرف سے حضور کا فوٹو لینے کے لئے فوٹوگرافر آیا اور اول حضرت اقدس کا اکیلے فوٹو لیا پھر خدام کے ساتھ بھی لیا۔حضرت صاحب کے کئی فوٹو لئے۔بیٹھے ہوئے۔کھڑے ہوئے اور جماعت کے ساتھ (جماعت خدام کے ساتھ ) اور پھر کچھ سلسلہ کے حالات حضرت اقدس کی اپنی زبان میں لکھوائے۔دمشق آنے کی اصل وجہ حضرت اقدس نے اس کو لکھوائی جس کا ذکر حدیث نبوی ﷺ میں آیا ہے۔اس وقت کہ ساڑھے پانچ بجے ہیں حافظ صاحب باہر کے کمرے میں تبلیغ کر رہے ہیں۔حضرت اقدس ایڈیٹر ان کو بعض حالات لکھا رہے رہیں اور حضرت اقدس کے کمرے اور منارہ بیضا کے درمیان بازار کے چوک میں اس وقت کم از کم ۵۰۰ آدمی جمع ہیں جو اس بات کی انتظار میں ہیں که مسیح ( حضرت خلیفتہ امی ) کو نازل ہوتے دیکھ بھی لیں عجیب ہی نظارہ ہے جو ہندوستان میں کبھی نظر نہیں آیا۔جس طرح او پر تبلیغ ہو رہی ہے اسی طرح سے نیچے بازار میں ٹولیاں کھڑی موافقت اور مخالفت میں بحث کر رہی ہیں۔بازاروں میں چرچا ہے۔جدھر بھی ہم جاتے ہیں لوگ خاص نظروں سے دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم مہدی کے رفقاء میں سے ہو؟ ایک آگ ہے جو سارے دمشق میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگوں میں لگ چکی ہے۔کوئی مخالفت میں جل رہا ہے اور کوئی موافقت میں منو رہو رہا ہے۔شام کا وقت ہو چکا ہے اور لوگ اسی طرح سے جمع ہیں۔حضرت کے پاس اس وقت لاء کالج کے طلبا حاضر ہیں اور سوالات کر رہے ہیں۔حضور بہت محبت اور نرمی سے جواب دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کے دل نور ایمان سے منور ہو جائیں۔اب جو لوگ حضور کو ملنے آتے ہیں ان کو اول پولیس سے اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے۔پولیس کی اجازت اور پاس کے بغیر کوئی شخص ہوٹل میں داخل نہیں ہوسکتا۔باوجود اس قدر مشکلات اور رکاوٹوں کے لوگ اس کثرت سے آ رہے ہیں کہ ملاقات کی باری بھی نہیں آتی اور مکان میں جگہ بھی نہیں رہتی۔کالحیٹ نو جوان بہت ہی اچھے سوالات کر رہے ہیں اور حضور جواب دیتے ہیں تو سن کر خوش ہوتے ہیں جھگڑا اور اصرار نہیں کرتے۔اب ایک سوال ایک لڑکے نے ایسا کیا ہے جس کے متعلق اس نے کہا کہ میں نے ہر مذہب وملت کے علماء سے کیا ہے۔مسلمان علماء بھی اس کا جواب