صد سالہ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 363 of 443

صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 363

WAY سوال ۱۸۴۷ ۱۹۶۲ء میں وفات پانے والے یہ فقائے مسیح کے نام گرامی کے محترم شیخ رحمت اللہ صاحب قادیانی ۵ جنوری ۱۹۶۳ جواب 1947 محترمه سیده خیر النساء بیگم صاحبہ ۱۹ جنوری ۱۹ (قدان سب پر رامنی ہو)۔سوال ۱۸۴۸ ۱۲ مارچ ۱۹۶۳ کو ٹانگانی کا مشرقی افریقہ کے ایک مخلص احمدی کو ملک کا وزیر انصاف بنایا گیا اس کا نام کیا ہے ؟ جواب شیخ امری عبیدی صاحب کم مارچ کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔سوال ۱۸۲۹ ۱۹۶۳ء میں جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت کن تاریخوں کو ہوئی اور یہ جماعت کی کونسی مجلس مشاورت تھی ؟ جواب منعقد ہوئی مور ۰۲۳ ۲۷ ماری ۱۹۶۳ م کو جماعت کی چوالیسویں مجلس مشاورت سال ۱۹۵۰ ۱۹۳ میں مغربی پاکستان کی حکومت نے حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہو) کی کسی کتاب کی ضبطی کا حکم دیا تھا ؟ جواب سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب؟ اس محکم پر ساری جماعت پر غم اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور تمام پاکستان اور بیرونی دنیا سے احمدیوں نے حکومت سے اس حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔بلکہ غیر ان جماعت احباب نے بھی عیسائیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں لکھی جانیوالی اس کتاب کی منبطی پر احتجاج کیا۔سوال ۱۸۵۱ حکومت نے کتاب کی ضبطی کا فیصلہ کب واپس لیا ؟ جواب ۳۱ جون ۱۹۶۳ کو۔سوال ۱۸۵۲ سوئٹزر لینڈ کی سب سے پہلی بیت کا افتتاح کس نے کیا ؟ جواب نے کیا۔۲۲ جون ۱۶ہ کو چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب (خدا آپ سے منی ہو) سال ۱۸۵۳ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کسی تاریخ کو کہاں ہوئی۔