صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 212
سوال ۹۲۳ معاہدہ صلح کیا تھا ؟ اور حضور نے اس کے متعلق کیا مخلصانہ مشور دی اے جواب حکام کشمیر نے مولوی ابوالکلام صاحب آزاد اور سرتیج بہادر سپرد کو کشمیر بلایا تا ان کے اثر سے تحریک ختم کی جاسکے ان احباب نے کچھ مسلمانوں کو ساتھ ملا لیا کہ مہاراجہ سے صلح کر لیں اور اپنے مطالبات ترک کر دیں۔یہ معاہدہ صلح تھا مگر غیور مسلمانوں نے شدید مخالفت کی۔حضور نے مشورہ دیا کہ معاہدہ پر عمل کریں مگر وقت محدود کر لیں اگر اس عرصہ میں بنیادی انسانی حقوق نہ دیئے جائیں تو صلح ختم سمجھی جائے۔سوال ۹۲۴ ۱۴ ستمبر را له کوس الکوٹ میں کشمیر کمیٹی کے جلسہ میں کیا واقعہ پیش آیا ؟ جواب : مخالفین کشمیر کمیٹی کی شدید سنگباری سے تقریباً ہر احمدی زخمی ہوا، حضور کے ہاتھ پر بھی میں پتھر لگے۔در اکتوبر را ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدائی حقوق دینے کا اعلان سوال ۹۲۵ کیا۔ایک غلط فہمی پھیلائی گئی کہ حضور اس بہانے تبلیغ احمدیت کرنا چاہتے ہیں۔بحضور نے کیا جواب دیا ؟ جواب کشمیر کی خدمت صرف ان کی ہمدردی کی بناء پر کی جارہی ہے تبلیغ کا الزام بے بنیاد ہے۔سوال ۹۲۶ سرجیگر، پونچھ میر پور غرضیکہ ہر محاذ پر ڈٹ کر قانونی مدد کرنے والے بعض احمدی وکلاء کے نام نیا ہے ؟ جواب شیخ محمد احمد صاحب مظہر ،شیخ بشیر احمد صاحب ، چوہدری عصمت اللہ صاحب میر محمد شش صاحب ، چوہدری یوسف خان ، چوہدری عزیز احمد باجوہ ، قاضی عبدالحمید صاحب اور چوہدری اسد اللہ خاں صاحب سوال ۹۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء کے جلسہ سالانہ میں حضور نے اہل کشمیر سے کیا وعد فرمایا ؟ ء جواب ہم مائی جانی قربانیاں اور ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے جب تک کامیابی نہ ہو جائے خواہ سو سال لگیں۔سوال ۹۲۸ اہل کشمیر کے لئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کی خدمات کا