صبرو استقامت کے شہزادے — Page 18
34 33 تمہارا دین بہتر ہے حضرت اُم شریک قبیلہ بنو عامر بن لوئی میں سے تھیں۔مکہ میں اسلام قبول کیا۔آپ خفیہ طور پر قریش کی عورتوں کے پاس جاتیں اور اسلام کی تبلیغ کرتیں۔جب اہل مکہ کو پتہ لگا تو انہوں نے حضرت ام شریک کو پکڑ لیا اور ان کے لیے سزا تجویز کی اور انہیں اونٹ کی ننگی پیٹھ پر سوار کرا دیا اور انہیں نا معلوم منزل کی طرف لے کر چل پڑے انہیں تین دن تک کھانے پینے کے عتیبہ سے ہو چکے تھے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا اعلان فرمایا تو ابولہب اور اس کی بیوی نے اپنے دونوں بیٹیوں کو حکم دے کر رخصتانہ سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دلوا دی۔یہ دونوں مقدس خواتین بعد میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان کے عقد میں آئیں اور حضرت عثمان نے ذوالنورین کا لقب پایا۔(اسد الغابه جلد 5 صفحہ 612 از محمد بن عبدالكريم الجزری۔مکتبه اسلامیه طهران) لیے کچھ نہ دیا گیا۔جب کسی منزل پر رکتے تو خود سائے میں بیٹھ جاتے اور ان کو دھوپ اگر سو جانیں ہوں حضرت سعد بن ابی وقاص والدہ سے بہت محبت اور حسن میں باندھ دیتے۔خود کھاتے پیتے اور ان کو بھوکا پیاسا رکھتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ سلوک فرمایا کہ رویا میں انہیں بہترین ٹھنڈا اور میٹھا پانی پلایا گیا جو انہوں نے اپنے اوپر بھی چھڑک لیا اور ان کی حالت بہت بہتر ہو گئی۔جب ان کے مخالفین نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تو سمجھا کہ شاید انہوں نے ان کے مشکیزوں سے پانی لے لیا ہے۔مگر حضرت اُم شریک نے انہیں اپنا رویا بتایا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ ہمارے مشکیزے با قاعدہ اسی طرح بھرے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ہے اور پھر اسلام لے آئے۔(الاصابه جلد 4 صفحہ 446 از ابن حجر عسقلانی مطبع مصطفى محمد رشته داروں سے جدائی - مصر 1939ء) صحابہ پر جو ایک گہرا جذباتی وار کیا گیا وہ رحمی رشتوں کا انقطاع تھا۔ان کے اہل خاندان نے نہ صرف ان سے تمام تعلق توڑ لیے بلکہ ان پر مظالم کی بھی قیادت کرتے رہے۔مگر صحابہ اس امتحان سے بھی سرخرو ہو کر نکلے۔جیسا کہ متعدد واقعات پہلے درج کیے جاچکے ہیں۔چند مزید نمونے پیش خدمت ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت سے قبل آپ کی دو بیٹیوں جبری طلاق حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثوم کے نکاح ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور سلوک کرنے والے تھے۔جب وہ اسلام لائے تو ان کی ماں نے کہا یہ تو نے کیا دین اختیار کر لیا ہے۔اسے چھوڑ دے ورنہ میں کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں۔مگر حضرت سعد نے انکار کر دیا اور ماں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی اور ایک دن رات اسی طرح گزر گیا اور وہ بہت کمزور ہوگئی۔مگر دین کے معاملہ میں حضرت سعد نے غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے اپنی والدہ سے کہا: اگر تیرے سینہ میں ہزار جانیں بھی ہوں اور ایک ایک کر کے ساری نکل جائیں تب بھی میں کسی قیمت پر اس دین سے جدا نہیں ہوسکتا۔یہ سن کر ان کی والدہ نے کھانا پینا شروع کر دیا۔(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 292 از عبدالکریم جزری ) خاندان بکھر گیا حضرت ابوسلمہ نے قریش کے مظالم سے تنگ آ کر مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا۔اپنے ساتھ اپنی بیوی اُم سلمہ ہند اور بیٹے سلمہ کو اونٹ پر سوار کیا اور مدینہ کی طرف چل پڑے۔جب اُمّ سلمہ کے قبیلہ بن مغیرہ کو معلوم ہوا تو وہ لپک کر پہنچے اور ابو سلمہ سے کہا کہ تیری ذات تو ہم سے جدا ہو سکتی ہے مگر تو ہمارے قبیلہ کی عورت کو نہیں لے جا سکتا۔یہ کہہ کر انہوں نے اونٹ کی نکیل کو ابوسلمہ کے ہاتھ سے چھین لیا اور انہیں اکیلے ہجرت کی اجازت دے کر اُم سلمہ کو روک لیا اور قید کر دیا۔