صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 19 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 19

36 35 جب ابوسلمہ کے قبیلہ بنوعبد الاسد تک یہ خبر پہنچی تو وہ دوڑے آئے اور کہا کہ ابوسلمہ کا بیٹا تو ہمارے قبیلہ کا فرد ہے اسے ہم ماں کے پاس نہیں رہنے دیں گے اور یہ کہہ کر اُم سلمہ سے ان کا بیٹا بھی چھین لیا جو گود کا شیر خوار بچہ تھا۔اس طرح بیوی کو خاوند سے اور بیٹے کو ماں سے جدا کر دیا گیا۔حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ میں روزانہ صبح با ہر نکل جاتی اور ویرانوں میں بیٹھ کر سارا دن آنسو بہاتی رہتی اور اس طرح پورا سال اسی حال میں گزر گیا۔یہاں تک کہ بنو مغیرہ کے ایک آدمی کو ان پر رحم آ گیا۔ان کو بچہ واپس کیا گیا اور مدینہ جانے کی اجازت دی گئی اور وہ اکیلی بچے کو لے کر مدینہ پہنچیں۔(سيرة ابن هشام جلد 2 صفحہ 112 مطبع مصطفی البابی الحلبی۔مصر 1936ء) یہی اُم سلمہ اپنے خاوند کی شہادت کے بعد رسول کریم کے عقد میں آئیں اور اُم المؤمنین کہلائیں۔جائیداد سے محرومی صحابہ نے اپنی جانیں، اپنے جسم ، اپنی عزتیں اپنے تمام دنیوی تعلقات کے ساتھ اپنے تمام اموال بھی راہ مولیٰ میں قربان کر دیے مگر ایمان پر آنچ نہ آنے دی۔عاص بن وائل پر حضرت خباب کی اُجرت باقی تھی۔انہوں نے تقاضا کیا تو اس نے کہا: جب تک محمد کی نبوت سے انکار نہ کرو گے مال نہ دوں گا۔مگر خباب نے جواب دیا مال دو یا نہ دو یہ انکار قیامت تک نہیں ہو سکتا۔(بخاری کتاب التفسير - سورة مريم) نفع مند سودا حضرت صہیب بھی ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔آپ کمزور طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ اسلام لائے تھے۔انہوں نے ہجرت کرنا چاہی تو کفار نے سخت مزاحمت کی اور کہا کہ تم مکہ میں محتاج ہو کر آئے تھے لیکن یہاں آ کر دولتمند ہو گئے۔اب یہ مال لے کر ہم تمہیں یہاں سے نہیں جانے دیں گے۔حضرت صہیب نے کہا اگر میں یہ سارا مال تمہیں دے دوں تو پھر جانے دو گے۔اس پر کفار راضی ہو گئے اور حضرت صہیب سارا مال دے کر متاع ایمان کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا: صہیب نے نفع بخش سودا کیا ہے۔(طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 227 دار بیروت۔بیروت 1957ء) ذوالبجادین حضرت عبداللہ ذوالبجادین نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی قوم نے ان کے تمام کپڑے اُتر والیے۔وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے انہیں ایک چادر دے دی۔انہوں نے اس کے دو ٹکڑے کیے ایک تو تہبند بنالیا اور ایک اوپر قمیض کے طور پر لے لی۔یہی اُن کی جائیداد تھی جسے لے کر وہ خوش خوش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو چادروں کی وجہ سے ہی انہیں ذوالبجادین کا لقب عطا فر مایا۔(اسدالغابه جلد 3 صفحہ 122 از عبدالکریم جزری۔مکتبه اسلامیه طهران) یہ کیفیت دو چار صحابہ کی نہیں سب مہاجرین کی تھی۔وہ جہاں جہاں سے بھی آتے اپنے تمام اموال اور جائیدادیں یا خود چھوڑ کر آگئے یا دشمنوں نے زبردستی چھین لیں اور ان پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ بڑے بڑے مالدار اور تاجر صحابی اس حال میں مدینہ پہنچے کہ تن کے کپڑوں کے سوا اور کوئی چیز ان کے پاس نہ تھی۔ہاں آسمان سے حاصل ہونے والی رضائے الہی کی ردا اُن پر سایہ فگن تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تمام آبائی جائیداد جو مکہ میں تھی اس پر تیل (جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے ) نے قبضہ کر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جگہ چھوڑی ہے جہاں ہم ٹھہر سکیں اور ایسی عالی ظرفی کا مظاہرہ کیا کہ فتح کے باوجود وہ مکانات اور جائیدادیں ان سے واپس نہ لی گئیں۔(بخاری کتاب المغای باب این رکز النبي صلى الله عليه وسلم)