صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 15 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 15

28 27 برداشت کرتے چلے جارہے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے محرم 7 نبوی میں ایک باقاعدہ معاہدہ لکھا کہ :- کوئی شخص خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کے پاس کوئی چیز فروخت نہ کرے گا۔نہ ان سے کچھ خریدے گا۔نہ ان کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دے گا۔نہ ان کے ساتھ رشتہ کرے گا۔نہ ان سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا جب تک وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے الگ نہیں ہو جاتے۔اس معاہدہ پر تمام بڑے بڑے رؤساء کے دستخط ہوئے بچوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک سے ان کے رونے اور چلانے کی آواز باہر جاتی تھی تو قریش اُسے سن سن کر خوش ہوتے۔حضرت حکیم بن حزام ایک دفعہ اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے لیے خفیہ طور پر کوئی کھانے کی چیز لے کر جا رہے تھے کہ ابو جہل کو پتہ لگ گیا تو اس نے سختی کے ساتھ روکا۔(سيرة النبي ابن كثير جلد 2 صفحہ 47 تا 50 دار الاحياء التراث العربي بيروت) تین سال کے بعد اس مصیبت سے مسلمانوں نے رہائی پائی۔دشمن تھک گیا حضرت عثمان اسلام لائے تو ان کے چا حکم بن ابی العاص نے ان کو اور پھر قومی عہد نامہ کے طور پر کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔چنانچہ مسلمان اور ان کے حامی شعب ابی طالب میں قیدیوں کی طرح نظر بند کر دیے گئے۔(سیرت ابن هشام حالات شعب ابی طالب - طبقات ابن سعد ذكر حصر قریش) ان ایام میں محصورین کو جو سختیاں برداشت کرنی پڑیں ان کا حال پڑھ کر بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔مگر آفرین ہے ان پر کہ کسی ایک نے بھی ایک لمحہ کے لیے بھی استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات انہوں نے جانوروں کی طرح جنگلی درختوں کے پتے کھا کھا کر گزارہ کیا۔(السيرة المحمديه باب اجتماع المشركين على منابذه بنی هاشم معلوم نہیں کیا تھا حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت ان کا پاؤں کسی ایسی چیز پر جا پڑا جو تر اور نرم معلوم ہوتی تھی ان کی بھوک کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے فوراً اُسے اُٹھا کر نگل لیا اور وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آج تک پتہ نہیں وہ کیا چیز تھی۔ایک دوسرے موقع پر بھوک کی وجہ سے ان کا یہ حال تھا کہ انہیں ایک سوکھا ہوا چمڑا مل گیا تو اس کو انہوں نے پانی میں نرم کیا اور پھر بھون کر کھا لیا۔(الروض الانف جلد2صفحه 160۔حالات نقض الصحيفة) پکڑ کر رسیوں سے باندھ دیا اور کہا کہ تو اپنے باپ دادا کے دین سے نئے دین کی طرف پھر گیا ہے۔میں تجھے نہیں کھولوں گا جب تک تو اس دین کو چھوڑ نہ دے۔مگر اس عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میں کبھی اس دین کو چھوڑ نہیں سکتا۔حکم بن ابی العاص نے جب دیکھا کہ یہ اپنے دین کے بارہ میں انتہائی سخت ہیں تو ان کو چھوڑ دیا۔(طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 55 دار بیروت۔بیروت 1957ء) حضرت مصعب بن عمیر مکہ کے ایک مالدار گھرانے کے چشم و روپ بدل گیا چراغ تھے۔انہوں نے اس قدر ناز و نعم سے پرورش پائی تھی کہ مکہ میں کوئی ثانی نہ رکھتے تھے۔عمدہ سے عمدہ لباس پہنتے اور اعلیٰ سے اعلیٰ خوراک کھاتے۔نہایت بیش قیمت خوشبوئیں اور عطریات استعمال کرتے۔اسلام لانے کے بعد ایک عرصہ تک تو اسے پوشیدہ رکھا مگر ایک روز ایک مشرک نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور آپ کی ماں اور دوسرے اہل خاندان کو خبر کر دی جنھوں نے آپ کو فوراً بند کر دیا۔ایک عرصہ تک آپ قید و بند کے مصائب نہایت صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے اور موقع ملنے پر حبشہ کی راہ لی۔