صبرو استقامت کے شہزادے — Page 6
10 9 یاد کو بھی زندہ جاوید کر گئے۔انہوں نے قتل ہونے سے پہلے یہ شعر پڑھے:۔فَلَسْتُ أَبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا على أَيِّ شِيِّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعى وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَا يُبَارِک عَلَى أَوْصَالِ شِلُرٍ مُمَزَّعِ کہ اے کفار ! میں تو اس بات کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ میں جب قتل کیا جاؤں گا تو کس پہلو پر گروں گا۔یعنی میری موت چونکہ خدا کی خاطر ہے اس لیے مجھے تو اس کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ جب میرا سرتن سے جدا ہوگا تو میں کس کروٹ پر گروں گا۔خدا کی قسم یہ سب کچھ خدا کی خاطر ہو رہا ہے اور اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے ذرہ ذرہ کو برکتوں سے بھر دے گا۔یہ تھا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا رد عمل اور یہی ان کو تعلیم دی گئی تھی۔پس آج آغاز اسلام کی باتیں کرتے ہوئے ہمیں درود بھیجنا چاہیے اُس محسن اعظم پر جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ کس شان کا وہ رسول تھا اور کس شان کے وہ غلام تھے جو آپ کے ساتھ تھے۔ان کی کیسی اعلیٰ تربیت کی گئی اور انہوں نے تربیت کا کیسا پیارا رنگ پکڑا۔پس آؤ آج کی دعاؤں میں خصوصیت کے ساتھ ہم درود بھیجیں محسن اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سلام بھیجیں روح بلالی پر اور سلام بھیجیں روح خباب پر اور سلام بھیجیں روح خبیب پر۔پس میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا دھر سے اُدھر ہو جائے ، زمین و آسمان ٹل جائیں مگر یہ تقدیر نہیں بدل سکتی کہ ہمیشہ ہر حال میں نار بولھبی یقیناً شکست کھائے گی اور نور مصطفوی یقیناً کامیاب ہوگا۔کوئی نہیں جو بلالی احد کی آواز کو مٹا سکے۔کوئی پتھر ، کوئی پہاڑ نہیں جو سینوں پر پڑ کر لا الہ کی آواز کو دبا سکے۔کوئی دکھ اور کوئی غم نہیں ، کوئی صدمہ نہیں جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی شہادت سے کسی کو باز رکھ سکے۔یہ امر یقیناً ہمیشہ ہمیش کے لیے زندہ اور قائم رہے گا۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وَالَّذِينَ مَعَهُ غالب آنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔مغلوب ہونے کے لیے نہیں بنائے گئے“۔(الفضل 10 فروری 1983ء)