سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 59

سبیل الرشاد جلد چہارم 59 حضور انور نے مجلس عاملہ کو ہدایت فرمائی کہ جنوری سے انصار اللہ کا نیا سال شروع ہو جائے گا۔اس لئے نئے سال کیلئے با قاعدہ پلان بنائیں اور اس کے مطابق کام کریں۔اپنے سامنے ٹارگٹ رکھیں اور اس کو حاصل کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کریں۔الفضل انٹر نیشنل 11 تا 17 فروری 2005ء) جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہد یداران اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریق پر نبھانے کے لئے خدا سے مدد طلب کریں اور اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 31 دسمبر 2004 ء کو عہد یداروں کو ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف توجہ دلائی اور احباب جماعت اور ان کے درمیان جو محبت کا رشتہ قائم ہے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔حضور نے آغاز میں تشہد وتعوذ ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ النساء کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الا سنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِطِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْل ط إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ به إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيْعًا بَصِيرًا ه اور فرمایا: (النساء: 59) یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت جماعت میں جاری فرمایا اور اس نظام خلافت کے گرد جماعت کا محلہ کی سطح یا کسی چھوٹی سے چھوٹی اکائی سے لے کر شہری اور ملکی سطح تک کا نظام گھومتا ہے۔یعنی کسی چھوٹی سے چھوٹی جماعت کے صدر سے لے کر ملکی امیر تک کا بلا واسطہ یا بالواسطہ خلیفہ وقت سے رابطہ ہوتا ہے۔پھر ہر شخص انفرادی طور پر بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ہر فرد جماعت خلیفہ وقت سے رابطہ رکھتا ہے۔لیکن اگر کسی جماعتی عہد یدار سے کوئی شکوہ ہو یا شکایت ہو اور خلیفہ وقت تک پہنچانی ہو تو ہر ایک کے انفرادی رابطے کے باوجود اس کو یہ شکایت امیر کے ذریعے ہی پہنچانی چاہئے اور امیر ملک کا کام ہے کہ چاہے اس کے خلاف ہی شکایت ہو وہ اسے آگے پہنچائے اور اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہے تو وضاحت کر دے تاکہ مزید خط وکتابت میں وقت ضائع نہ ہو۔لیکن شکایت کرنے والے کا بھی کام ہے کہ اپنی کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی عہدیدار کے خلاف شکایت کرتے ہوئے اسے جماعتی رنگ نہ دے۔تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔بعض دفعہ بعض کم علم یا جن میں دنیا کی مادیت نے اپنا اثر ڈالا ہوتا ہے ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جماعت کے وقار اور روایات کے خلاف ہوتی ہیں اس لئے ایسے کمزوروں یا کم علم رکھنے والوں کو سمجھانے کے لئے میں یہ بتا رہا ہوں کہ ایسی