سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 58

سبیل الرشاد جلد چہارم 58 جنوری سے ہی نئے سال کا پلان (Plan) بنا کر کام کیا کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ فرانس کی مورخہ 29 دسمبر 2004ء کی میٹنگ میں تمام قائدین سے اُن کے عہدوں کا تعارف حاصل کیا اور ان کے کام اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا اور ہر قائد کو اُس کے شعبے کے بارہ میں ساتھ ساتھ ہدایات دیں۔حضور انور نے فرمایا کہ مجلس انصاراللہ کی مساعی کی ماہانہ رپورٹ با قاعدگی کے ساتھ خلیفہ مسیح کو آنی چاہئے۔قائد تعلیم کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ انصار اللہ کیلئے با قاعدہ نصاب مقرر کر کے امتحان لیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی چھوٹی کتاب مقرر کر لیں۔اور پھر اس کا امتحان ہو۔مجلس عاملہ کے تمام ممبران بھی امتحان میں شامل ہوں۔حضور انور نے فرمایا جوصرف فرنچ زبان جانتے ہیں اُن کے لئے فرینچ زبان میں علیحدہ لیں اور اردو زبان والوں سے علیحدہ امتحان لیں۔قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کے بارہ میں بھی حضور انور نے انصار اللہ کو ہدایت فرمائی کہ انصار ترجمہ قرآن کریم سیکھیں۔قائد ایثار کو مخاطب ہوتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ کئی بوڑھے انصار فارغ ہوں گے انہیں چاہئے کہ وہ یہاں کے Old People's Home میں جائیں۔وہاں بوڑھوں سے دوستی کریں۔باتیں کریں ان کا حال پوچھیں اور تعلق بنا ئیں۔جاتے ہوئے پھل وغیرہ ساتھ لے لیا۔اس طرح تعارف بڑھے گا اور رابطے وسیع ہوں گے۔حضور انور نے فرمایا کہ قائد تعلیم القرآن کو قرآن کریم سکھانے اور ترجمہ سکھانے کی طرف خصوصیت سے توجہ دینی چاہئے خود بھی توجہ دیں بچوں کو بھی توجہ دلائیں۔قرآن کریم سب کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا آنا چاہئے۔انصار اللہ کے چندہ کا جائزہ لیتے ہوئے حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ جو انصار اللہ بالکل چندہ ادا نہیں کرتے کہ ان کی آمد نہیں ہے۔ان سے بھی کچھ نہ کچھ لے لیا کریں آخر وہ کھاتے پیتے تو ہیں۔صف دوم کے انصار کیلئے نائب صدر کا تقررنہیں تھا۔حضور انور نے نائب صدر کا تقرر فرمایا اور ہدایت دی کہ انصار اللہ کے دستور سے اپنی ذمہ داریاں اور کام پڑھ لیں۔انصار کو سیر وغیرہ کرنی چاہئے۔سائیکلنگ کرنی چاہئے۔حضور انور نے فرمایا کہ تمام قائدین اپنی مجالس کو Active کریں۔نئے نئے راستے کام کے نکالیں۔اپنے شعبوں میں کام میں بہتری کیلئے سوچیں اور کام کے، ملک کے حالات کے مطابق نئے طریقے سوچیں اور جوانوں سے زیادہ کام لیں۔