سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 367

سبیل الرشاد جلد چہارم 367 اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے" یہاں مجدد کے بارے میں پھر بعض دفعہ لوگ غلطی کھا جاتے ہیں کہ اگر آتے رہیں گے تو کون ہوں گے؟ اس بارے میں ایک تفصیلی خطبہ میں پہلے دے چکا ہوں۔اُس سے بھی نوٹس لئے جاسکتے ہیں کہ خلفا ء ہی مجدد ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑی وضاحت سے بیان بھی فرما چکے ہیں۔جماعت کے لٹریچر میں بھی یہ سب کچھ موجود ہے۔فرمایا: " دیکھو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ گما کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔شریعت موسوی کے آخری خلیفہ حضرت عیسی تھے جیسا کہ خود وہ فرماتے ہیں کہ میں آخری اینٹ ہوں۔اسی طرح شریعت محمدی میں بھی اس کی خدمت اور تجدید کے واسطے ہمیشہ خلفاء آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے۔اور اس طرح سے آخری خلیفہ کا نام بلحاظ مشابہت اور بلحاظ مفوضہ خدمت کے مسیح موعود رکھا گیا۔اور پھر یہی نہیں کہ معمولی طور سے اس کا ذکر ہی کر دیا ہو بلکہ اُس کے آنے کے نشانات تفصیلا گل کتب سماوی میں بیان فرما دیئے ہیں۔بائبل میں، انجیل میں، احادیث میں اور خود قرآن شریف میں اس کی آمد کی نشانیاں دی گئی ہیں اور ساری قومیں، یہودی ، عیسائی اور مسلمان متفق طور سے اس کی آمد کے قائل اور منتظر ہیں۔اس کا انکار کر دینا کس طرح سے اسلام ہوسکتا ہے۔اور پھر جبکہ وہ ایک ایسا شخص ہے کہ اُس کے واسطے آسمان پر بھی اللہ تعالیٰ نے اُس کی تائید میں نشان ظاہر کئے اور زمین پر بھی مجزات دکھائے۔اُس کی تائید کے واسطے طاعون آیا اور کسوف و خسوف اپنے مقررہ وقت پر بموجب پیشگوئی عین وقت پر ظاہر ہو گیا۔تو کیا ایسا شخص جس کی تائید کے واسطے آسمان نشان ظاہر کرے اور زمین الوقت کہے وہ کوئی معمولی شخص ہوسکتا ہے کہ اُس کا ماننا اور نہ ماننا برا بر ہو اور لوگ اُسے نہ مان کر بھی مسلمان اور خدا کے پیارے بندے بنے رہیں؟ ہر گز نہیں۔" فرمایا: " یا درکھ کہ موعود کے آنے کی گل علامات پوری ہوگئی ہیں۔طرح طرح کے مفاسد نے دنیا کو گندہ کر دیا ہے۔خود مسلمان علماء اور اکثر اولیاء نے مسیح موعود کے آنے کا یہی زمانہ لکھا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔فرمایا: " اس قدر متفقہ شہادت کے بعد بھی جو کہ اولیاء اور اکثر علماء نے بیان کی۔اگر کوئی شبہ رکھتا ہو تو اُسے چاہئے کہ قرآن شریف میں تدبر کرے اور سورۃ النور کو غور سے مطالعہ کرے۔دیکھو جس طرح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد حضرت عیسی آئے تھے اسی طرح یہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی ہی میں مسیح موعود آیا ہے۔اور جس طرح حضرت عیسی سلسلہ موسوی کے خاتم الخلفاء تھے اسی طرح ادھر بھی مسیح موعود خاتم الخلفاء ہوگا " ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 551 ، 552 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )