سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 268
سبیل الرشاد جلد چہارم 268 اس لئے اس طرف بہت توجہ دیں۔قائد مال نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انصار اللہ کا بجٹ 114, 7 یورو ہے۔اور 480 یورو اجتماع ہے۔حضور انور نے فرمایا جو مرکزی شیئر ہے وہ علیحدہ جماعت کے پاس رکھوا دیا کریں۔اس پر آپ کا حق نہیں ہے۔باقی جو سال کے اختتام پر بچتا ہے وہ ریز رو میں چلا جاتا ہے۔ریزرو میں چلے جانے کے بعد انصار اللہ آئر لینڈ کی ہی رقم ہوگی لیکن اس پر آپ کو مرکز کی منظوری کے بغیر خرچ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔قائد مال نے بتایا کہ کمانے والوں سے ایک فیصد چندہ لیتے ہیں۔جن کو سوشل ملتی ہے وہ بھی ایک فیصد چندہ ادا کرتے ہیں۔جو اسا سکم سیکرز ہیں وہ دس یور و سالانہ ادا کرتے ہیں۔حضور انور کی خدمت میں ایک عہدیدار نے عرض کیا کہ میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں اور وہاں ہم دو احمدی فیملیز ہیں۔میں اپنے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ نماز ادا کرتا ہوں۔دوسرے فیملی کے سربراہ عموماً Job پر ہوتے ہیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ جس دن اپنے کام پر نہ ہوں تو آجایا کریں اور آپ لوگ اکٹھے نماز پڑھ لیا کریں۔حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ انصار اللہ کی رپورٹ ہر ماہ با قاعدگی سے آنی چاہئے۔جس ماہ کوئی میٹنگ وغیرہ نہ ہوئی ہو تو رپورٹ میں لکھ دیا کریں کہ اس ماہ کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔لیکن رپورٹ بھیجوانے میں با قاعدگی ہونی چاہئے۔قائد اشاعت اور قائد تبلیغ کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ Leaflets کی تقسیم کے لئے بھر پور طریق سے کارروائی ہونی چاہئیے۔ابھی صرف دو ہزار تقسیم ہوئے ہیں۔اس میں جو سال کے اندراج کی غلطی ہے وہ انصار سے درست کروا کر تقسیم کروائیں۔چھوٹا ملک ہے۔یہاں تو چند سالوں میں ہر فرد تک احمدیت کا پیغام پہنچ جانا چاہیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے نیشنل مجلس عاملہ کے ممبران کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ آپ آج جو نمونہ قائم کریں گے وہ پیچھے آنے والوں کے لئے نمونہ ہو جائے گا۔نَحْنُ أَنْصَارُ الله “ پر ہر ناصر غور کرے تو پھر علم ہوگا کہ کون اپنے اس عہد میں کتنا پیچھے ہیں۔حضور انور نے فرمایا۔آپ خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے رہیں۔خدا تعالی طاقت دیتا ہے اور جو کمیاں اور کمزوریاں رہ جاتی ہیں وہ اللہ کے فضل سے دور ہو جاتی ہیں۔عاجزی اور محنت سے کام کرتے رہیں۔حضور انور نے فرمایا: سب سے زیادہ یہاں لجنہ کی تنظیم منظم اور مستحکم ہے اور مستعد ہے اور اچھا کام کر رہی ہے۔حضور انور نے فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں صوبہ سرحد میں احمدیت بہت پھیلی تھی لیکن بعد میں ان گھروں میں احمدیت میں کمزوری آتی گئی اور پھر بعض خاندان پیچھے ہٹ گئے۔