سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 249
سبیل الرشاد جلد چہارم 249 کو تبلیغ کے لئے استعمال کیا جائے اور وہ انصار جو فارغ ہیں خود بھی اپنے آپ کو اس کے لئے پیش کریں اور تبلیغ کے میدان میں مدد کریں۔جیسا کہ میں نے جماعت کو بھی کہا ہے اور ذیلی تنظیموں کو بھی کہا ہے کہ اسلام اور جماعت کا حقیقی تعارف ہر طبقہ تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور دس سال کا ایک منصوبہ بنانا چاہئے کہ دس سال میں یہاں UK میں ہر شخص تک جماعت کا ایک مختصر سا تعارف پہنچا سکیں اور پھر اس کے لئے نہیں ہر سال کم از کم دس فیصد آبادی تک جماعت کا یہ تعارف پہنچانا ہو گا۔صرف اتنا سا پیغام ہو کہ حضرت مسیح موعود کا پیغام کیا ہے؟ آپ کی بعثت کا مقصد کیا ہے؟ دین کی ضرورت کیا ہے؟ اتنا پیغام ہی پہنچ جائے مختصر باتیں ہوں اور آگے پیچھے ایک ورقہ شائع کیا جائے اور اُس پر ہماری ویب سائٹ کا پتہ دیا جائے۔ایم ٹی اے کا پتہ دیا جائے تا کہ جو دلچسپی رکھنے والے ہیں وہ پھر خود ہی توجہ کرتے ہیں۔بجائے اس کے کہ ایک چھوٹا سافنکشن کر کے چند آدمیوں کو چند کتابیں دے دی جائیں جو گھر جا کے رکھ دیتے ہیں اور پڑھتے بھی نہیں اور وہ کتابیں ضائع ہو رہی ہوتی ہیں تو اس طرح وہ کسی اور کے کام آسکتی ہیں۔بنیادی طور پر پہلے یہ دیکھیں کہ جس کو دے رہے ہیں اس کو مذہب سے یا دین سے کوئی دلچسپی بھی ہے کہ نہیں۔پس پہلا کام تو یہ کہ جو تعارفی ایک ورقہ ہے وہ ہم شخص تک پہنچ جانا چاہئے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ مزید رستے کھلتے چلے جائیں گے۔اگر انصار اللہ میں وہ مہران جو کچھ نہیں کر رہے اور فارغ بیٹھے ہیں یا کسی ڈاکٹری مشورہ کی وجہ سے، کسی چوٹ وغیرہ کی وجہ سے بھاری کام نہیں کر سکتے اور ان کو ڈاکٹروں نے سرٹیفیکیٹ دیا ہو کہ تم نے کام نہیں کرنا تو وہ یہ تبلیغ کا کام تو کر سکتے ہیں۔وہ اس پیغام کے پہنچانے اور احمدیت کا تعارف پہنچانے کی مہم میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جب وہ عملاً اس میدان میں قدم رکھیں گے تو اپنے دینی علم کی ترقی اور دعاؤں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور پھر یہ توجہ بڑھتی چلی جائے گی اور اس سے روحانیت میں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔پس یہ دوسری بات ہے کہ تبلیغ کے میدان میں ایک خاص شوق ، جذبے اور کوشش سے اپنے آپ کو پیش کریں۔مالی قربانیوں اور نظام وصیت کی طرف توجہ کریں پھر ایک بات دین کی خاطر مالی قربانیوں کی ہے۔میں پہلے بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ انصار اللہ کی عمر میں ایک ایسا طبقہ بھی ہوتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں یا ہنر کے کمال کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔اسی طرح اپنی آمدنیوں کے تنخواہوں کے، اجرتوں کے جو Maximum سکیل ہوتے ہیں اُن کو حاصل کر رہا ہوتا ہے۔اس وجہ سے آپ کی آمدنیوں میں جو ترقی ہے اس میں دین کا حق بھی اپنی قربانی کے معیاروں کو بلند کرتے ہوئے ادا کریں۔ایک تو میں نے کہا تھا کہ صف دوم کے جو انصار ہیں وہ نظام وصیت میں شامل ہونے کی کوشش