سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 250
250 سبیل الرشاد جلد چہارم کریں۔اگر صف دوم کے انصار نے اس طرف توجہ دی ہے اور ان کی اکثریت بلکہ صف دوم کے انصار کو تو سو فیصد شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر تو اکثریت شامل ہو گئی ہے تو الحمد للہ اور اگر کوئی مزید گنجائش ہے تو اسے بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ کوشش مجلس انصار اللہ کی سطح پر ہونی چاہئے۔اگر وہ معیاری عمل نہیں کئے جن کی انصار اللہ سے توقع کی جاتی ہے تو تب بھی توجہ کرنی چاہئے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہمارے عمل ایسے ہیں کہ ہمیں وصیت کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے اگر ایسے عمل ہیں تب بھی وصیت کرنی چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ اُن میں نیکی کی روح پھونک دے بلکہ وصیت کرنے کے بعد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ خود بخود توجہ پیدا ہوتی چلی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی وجہ بھی بن رہی ہے، دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔نمازوں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔قربانیوں کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔قربانیوں کے معیار بلند ہور ہے ہیں۔ستر یا پچہتر سال کے جو انصار ہوتے ہیں ان میں سے بعض کی وصیت تو مرکز منظور کرتا ہے اور بعضوں کی نہیں کرتا۔لیکن صف دوم کے جو انصار ہیں ان کو خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔پھر اسی طرح دوسری مالی تحریکات ہیں ان کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔اپنے نام کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے مددگار اور ناصر بننے کا اعلان کر رہے ہیں، پھر اپنی قربانیوں کو دیکھیں، خود اپنے جائزے لیں اور پھر اپنے دل سے فتویٰ لیں کہ کیا ہم انصار اللہ ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں۔جب خود اپنی سوچ کو اس نہج پر لائیں گے تو مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اندر پاک تبدیلیوں کے اور قربانیوں کے معیار بڑھتے چلے جائیں گے اور جب یہ بڑھیں گے تو یہی چیز ہے جو من حیث الجماعت، جماعت کی بقا اور ترقی کے سامان کرتی ہے۔خلافت سے وابستگی اور اس کے تقاضے ނ پھر انصار اللہ کا ایک اہم کام خلافت سے وابستگی اور اس کے استحکام کی کوشش کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل - جماعت کا ہر فرد اس میں لگا ہوا ہے اور بڑے اعلیٰ نمونے پیش کرتے ہیں۔لیکن انصار اللہ کو اس پر نظر رکھنی چاہئے کہ جو معیار حاصل کر رہے ہیں یہ یہیں نہ رک جائیں بلکہ بڑھتے چلے جائیں۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور یقیناً یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ خلافت مومنین کے لئے ضروری ہے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر بھی فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن؟ صَ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ