سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 236

236 سبیل الرشاد جلد چہارم ہر ایک کو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ ہم نے جو یہ باتیں سنیں تو ہم کامل فرمانبرداری اور کامل اطاعت سے اللہ تعالیٰ کے انصار بننے کا اعلان کرتے ہیں۔پس اطاعت کے نمونے دنیا کو دکھا دیں۔اخلاص کے نمونے دنیا کو دکھا دیں۔خلافت کے لئے ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہنے کے نمونے دنیا کو دکھا دیں۔تبلیغ کے نمونے بڑی شان سے دنیا کو دکھا دیں۔تربیت کے نمونے پہلے سے بڑھ کر اپنے گھروں میں قائم کر دیں۔دعا اور عبادت کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ کرنے والے ہوں۔یہی چیزیں ہیں جو آپ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے قائم کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔اور پھر انشاء اللہ آپ بھی ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے دیکھیں گے اور نَحْنُ أَنْصَارُ الله کہ کر نہ صرف مدد کر رہے ہوں گے بلکہ اُس کے نتیجہ میں آپ کو اپنے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے نظر آ رہے ہوں گے۔کامیابیاں آپ کے قدم چومیں گی۔جنہوں نے نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کہا تھا ، ان کا کہنا اور کوششیں اسی حد تک نہیں تھیں کہ انہوں نے نَحْنُ انصار اللہ کہہ دیا اور بات ختم ہوگئی بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مدد کا ہی نظارہ تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا وہاں دوسری آیت میں فرمایا فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوْا عَلى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوْا ظَاهِرِينَ (الصف: 15 ) پس ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے۔پس ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ اعلان کیا کہ میں نے اور میرے رسولوں نے غالب آنا ہے، یہ بتا رہا ہے کہ غلبہ انشاء اللہ ہونا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام کئی مرتبہ ہوا۔اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ایک دن انشاء اللہ احمدیت نے ساری دنیا پر غالب آنا ہے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے مددگار بننے والوں کی مدد کے ذریعہ ان کا غلبہ یہ بتارہا ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو ایمان لائے ان کی دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے تو اللہ تعالیٰ ایمانداروں کی مومنوں کی جب مدد کرتا ہے تو مومن غالب آتے ہیں۔تو میں بتا رہا تھا کہ اگر ہم ایمان میں خالص رہیں ، اپنی حالتوں پر نظر رکھنے والے ہوں تو ہم میں سے ہر ایک، تمام افراد جماعت جو ہیں اس مدد کے نظارے دیکھیں گے۔خدا کرے کہ ہم حقیقت میں اپنے پہ نظر رکھنے والے ہوں۔اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔اپنی حالتوں کو بدلنے والے ہوں اور فتح و کامرانی کے ے دیکھنے والے ہوں اور بچے اور حقیقی انصار اللہ بننے والے ہوں اور انشاء اللہ جب ہم یہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے نظارے بھی دیکھیں گے۔اللہ کرے وہ ہمیں جلد دکھائے " (الفضل انٹر نیشنل 4 مارچ 2011ء)