سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 235
235 سبیل الرشاد جلد چہارم جاسکتا۔وہ اپنے آپ کو جماعتی کاموں میں شامل کریں۔نیکی کی جو تعلیم دینے والی ہے وہ اپنے گھروں سے شروع کریں ، اپنے ماحول سے شروع کریں، اپنے قریبی رشتہ داروں سے شروع کریں۔ان سے تربیتی پہلوؤں اور نیکی کے کاموں کی باتیں کریں۔نیکیوں کی تلقین کریں۔جماعت سے تعاون اور اخلاص کا تعلق ہر ایک سے جوڑیں۔بعض میں بلا وجہ عہدیداروں کے خلاف یا نظام جماعت کے خلاف رنجشیں اور کدورتیں پیدا ہو جاتی ہیں، اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ہر طبقہ جو ہے اور ہر عمر والا جو ہے وہ اس میں حصہ لے سکتا ہے۔تبلیغ کے میدان میں بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہمیں زبان نہیں آتی ، پیسٹس تیار ہیں ، ڈی وی ڈی بنی ہوئی ہیں، ایم ٹی اے کا ایک رابطہ ہے۔اور میں انصار اللہ کو یہ کہا کرتا ہوں کہ جو اولڈ پیپلز ہومز ( Old Peoples Homes) ہیں ، ان کے پاس جا کر بیٹھ جائیں۔بہت سارے ہیں جن کو زبان نہیں آتی اور بوڑھوں کو باتیں کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔اس سے ان کی اپنی زبان بھی ٹھیک ہو جائے گی اور کچھ نہ کچھ پیغام بھی ان تک پہنچ جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اگر کوئی بستر مرگ پر بھی ہوتا تھا تو اس کو بھی پیغام پہنچاتے تھے۔بڑی حسرت ہوتی تھی کہ کاش یہ اسلام کو قبول کرلے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کر دے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعلان کر دے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تا کہ اس کی آخرت سنور جائے۔پس یہ درد ہے جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کا اسوہ ہمارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا۔اس عمر میں جب ہم آہستہ آہستہ اپنی عمر میں بھی بڑھ رہے ہیں اور ایک لحاظ سے ہماری عمریں کم ہو رہی ہیں تو ہمیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جس حد تک دنیا کو بچانے کے لئے ہم کوشش کر سکتے ہیں کریں اور تبلیغ کے میدان میں تیزی پیدا کریں۔تربیت کے میدان میں تیزی پیدا کریں۔ہم میں سے ہر ایک انصار اللہ بننے کا عہد کرے اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُون۔تم یہ کام کرو گے تو اس کا اجر پاؤ گے یعنی تم کامیاب ہو گے۔تم اپنی زندگی کے مقصد کو پانے والے ہو گے۔اور جو لوگ اپنی زندگی کے مقصد کو پالیں وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں بشرطیکہ ان کی زندگی کا مقصد وہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے رکھا ہے۔اور ہماری پیدائش کا مقصد عبادت اور اس کے نام کی بڑائی ہے۔اس کی مخلوق کی خدمت اور اس کے پیغام کو پہنچانا ہے۔پس جب آپ کہتے ہیں نَحْنُ اَنْصَارُ الله کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مددگار ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم لوگ کامیاب ہو جاؤ گے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم فلاح کے راستے تلاش کرتے چلے جائیں اور ان راستوں پر قدم مارتے چلے جائیں۔ان حواریوں نے جن سے اللہ تعالیٰ نے یہ خطاب فرمایا کہ میں تمہیں کامیاب کروں گا۔دوسرے یہ فرمایا کہ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران : 53) کہ گواہ بن جاؤ کہ ہم فرمانبردار ہیں۔پس آج ہم میں سے