سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 231
231 سبیل الرشاد جلد چہارم تک انصار اللہ کی عمر اس سے زیادہ بنتی ہے جب وہ پیشے کے لحاظ سے بھی اوپر پہنچ چکا ہوتا ہے۔اپنی تنخواہ کے لحاظ سے بھی جو اس کی سکسیلنگ (Scaling) ہوتی ہے اس تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔کام کے لحاظ سے بھی اور عمر کے لحاظ سے بھی انصار اللہ کی عمر ایسی ہے جو بہر حال جس طرف بھی اس کو لے کر جاتی ہے، جوں جوں اس کا تجربہ بڑھتا ہے اس کی آمد بڑھتی ہے اور پھر طبیعت میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔اپنے بچوں کا خیال آتا ہے، پھر مال کمانے کی طرف مزید توجہ پیدا ہوتی ہے اور پھر توجہ صرف مال کی طرف رہ جاتی ہے۔بعض ایسے ہیں جو بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے ہیں اور اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری اولادیں اور تمہارے مال تمہارے لئے ابتلاء نہ بن جائیں۔بڑی عمر میں اولاد کی خاطر مال جمع کرتا ہے۔ایک یہ وجہ بن جاتی ہے کہ اولاد کی خواہشات کی خاطر کمزوریاں دکھاتا ہے۔آہستہ آہستہ جوں جوں اس کی اہمیت بڑھتی ہے اور تجربہ بڑھتا ہے تو ایک انسان کی مانگ بڑھتی ہے۔اگر اس میں صحیح ایمان نہ ہو تو دنیا دار بن جاتا ہے اور دنیا کمانے کی طرف رجحان بڑھتا چلا جاتا ہے۔بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے۔بہتر تنخواہ حاصل کرنے کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے۔اس کی دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا کہ اولاد اور مال کے جو ابتلاء ہیں ان سے بچو۔یہ تمہارے لئے فتنہ ہیں۔انَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (الانفال:29)۔پس اس طرف بھی انصار اللہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ ایسی بھی صورتیں ہو جاتی ہیں کہ جماعتی نظام اولاد کی تربیت کے لئے اگر کوئی ایکشن لیتا ہے تو بعض لوگ انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں کہ جماعت نے غلط کیا ہے۔اپنے بچوں کی خواہشات کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ گہرائی میں جا کر جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اس زمانے میں اور ان ملکوں میں رہ کر بچوں سے لاڈ کر کے وہ ان کی بھلائی اور بہتری کے سامان نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ان کو تباہی کی طرف لے جارہے ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نہ دین کے رہتے ہیں نہ دنیا کے۔پس انصار اللہ پر یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انصار کو عبادت گزار ہونا چاہئے پھر یہ کہ انصار اللہ کو عبادت کا حق ادا کرنے والا ہونا چاہئے جو ایک انتہائی ضروری اور اہم چیز ہے۔اس کے لئے انسان کی پیدائش کی گئی۔انسان کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے۔تو جو عبادت کا حق ادا نہیں کرتے وہ پھر انصار اللہ کیسے کہلا سکتے ہیں ؟ جو مقصد میں نے ابھی حواری ہونے کے اور اس حوالہ سے انصار اللہ بننے کے بتائے ہیں تو کیا ایسے لوگ پھر حواری کہلانے کے مستحق ہیں؟ صحیح اور پکے مومن کہلانے کے مستحق ہیں؟۔ایسے لوگ تو مومن نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایسے لوگ انصار اللہ کہلا سکتے ہیں۔