سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 224

224 سبیل الرشاد جلد چہارم ابھی تک باقاعدہ مسجد نہیں۔سینٹر بے شک ہیں۔بڑی مالی قربانیاں کی ہیں سینٹر ز خریدے گئے ہیں۔برسلز میں خریدا ہے اور جگہ بھی ہیں اور تربیت کے لحاظ سے تو ٹھیک ہے آپ کرتے ہیں لیکن تبلیغی میدان جو ہے وہ بغیر مساجد کی تعمیر کے لوگوں کی اس طرف توجہ ہونے میں ایک بہت بڑی روک بن جاتا ہے۔کیونکہ لوگ اس طرح توجہ نہیں کرتے۔مسلمان ان ملکوں میں بہت سارے آئے ہیں وہ مسجد کو دیکھتے ہیں ، اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور انصار اللہ جو چالیس سال کی عمر کے ہیں اور اس سے اوپر ہیں۔یہ ایک ایسی عمر کا گروپ ہے Age Group جسے کہتے ہیں انگریزی میں یہ جو حصہ ہے اس گروپ میں جولوگ ہیں ان میں عموماً آمدنی کے لحاظ سے بھی اچھے حالات ہوتے ہیں اس لئے مالی قربانی کی طرف انصار کو زیادہ توجہ دینی چاہئے۔حضور نے فرمایا کہ مسجد سے کس حد تک تعارف پیدا ہوتا ہے۔میں ابھی فرانس میں مسجد کا افتتاح کر کے آیا ہوں۔وہاں لوگ احمدی جو تھے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہماری مسجد کا اتنا تعارف ہوگا۔نیشنل ٹی وی نے ، اخباروں نے اور میڈیا نے جتنی کو ریج دی ہے اس کو وہ کروڑوں تک بھی خرچ کرتے تو شاید تبلیغ وہاں تک نہ پہنچ سکتی جس طرح اس مسجد کی تعمیر سے پہنچ گئی۔پھر برلن مسجد کی تعمیر ہے۔مجھے کسی نے بتایا کہ یورونیوز Euro News) نے کافی وقت کی خبر دی ہے۔یہاں فرنچ میں ، جرمن میں، انگریزی میں خبریں آتی ہیں۔تو احمدیت کی تبلیغ ہوئی اور اس سے لوگوں کو تعارف حاصل ہوا۔ابھی جرمنی میں ہی تھا کہ ایک بوڑھی مائی برلن سے آئی کہ میں نے خلیفہ کو ملنا ہے۔خلیفہ یہاں آئے ہوئے ہیں۔اس سے پوچھا کہ کیسے پتہ لگا تو کہنے لگی میں نے ٹی وی پر دیکھا، اخبار میں پڑھا تو مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں خود جا کر دیکھوں۔تو اسی طرح اور لوگ بھی آئے مسجد دیکھنے کے لئے۔اسی اخباروں کے تعارف کی وجہ سے اور تبلیغ کے نئے راستے بھی کھلے بیعتیں بھی ہوئیں۔حضور انور نے فرمایا: تو مسجد جو ہے ایک بہت بڑا راستہ ہے تبلیغ کا۔اس کے لئے بھی سب سے پہلے وہ لوگ جن کی سوچیں Mature ہیں، جنہوں نے انصار اللہ ہونے کا اعلان کیا ہے ان لوگوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔صرف اس میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے کچھ نہیں ہوگا۔یہ کام نہیں کر رہایا وہ کام نہیں کر رہا۔اس سے نتیجے حاصل نہیں ہو سکتے۔سب کو اکٹھا ہو کر اپنے رخوں اور اپنی سمتوں کا تعین کرنا ہوگا۔اپنی منزلوں کا تعین کرنا ہوگا۔اپنے ٹارگٹ مقرر کرنے ہوں گے۔تب اس میں برکت بھی پڑے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ آپ لوگ یہاں بھی اس قابل ہوں گے کہ یہاں مسجد تعمیر کر سکیں۔یہاں بے شک میں نے کہا کہ تربیت کے لئے سینٹر ہیں لیکن جہاں مسجد میں ہماری نہیں ہیں یہی رپورٹ آتی ہے کہ جو مسلمانوں میں سے احمدی ہوتے ہیں شروع میں کمزور ہوتے ہیں۔ابتدائی حالت ہوتی ہے۔دوسرے مسلمان ان کو ورغلا کر لے جاتے ہیں کہ دیکھو انہوں نے تو مسجد نہیں بنائی۔یہ تو مسلمان نہیں ہیں۔سینٹر بنائے ہیں ، ہال بنائے ہیں ، کمرہ