سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 185

سبیل الرشاد جلد چہارم 185 عہد یداران انصاف سے کام لینے والے ہوں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 6 اپریل 2007ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔اسی طرح امام کی نگرانی کے ضمن میں یہ بات بھی کرتا چلوں کہ آجکل یا یوں کہنا چاہئے جماعت میں امام یا خلیفہ وقت کی نمائندگی میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں ، عہدیداران متعین ہیں، ان کا بھی فرض ہے کہ حقیقی رنگ میں انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اگر کبھی کسی موقع پر اپنے پر یا اپنے عزیزوں پر بھی زد پڑتی ہو تو اس کی پروانہ کرتے ہوئے اس نمائندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں جو آپ کے سپرد کی گئی ہے تا کہ اس نگرانی میں خلیفہ وقت کی بھی احسن رنگ میں مدد کر سکیں، تا کہ جزا سزا کے دن اس کو سرخرو کروانے والے بھی ہوں۔ہر عہد یدار کے عمل جہاں براہ راست اس کو جوابدہ بناتے ہیں اور ہر عہد یدار اپنے دائرے میں جہاں نگران ہے وہ ضرور پوچھا جائے گا۔یا درکھیں کہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں آپ اس لحاظ سے بھی ذمہ دار ہیں، اس لئے کبھی یہ نہ سوچیں کہ کسی معاملے میں خلیفہ وقت کو اندھیرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ٹھیک ہے، رکھ سکتے ہیں آپ، لیکن خدا تعالیٰ جو جزا سزا کے دن کا مالک ہے، اس کو اندھیرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔پس ہر عہدیدار کی دوہری ذمہ داری ہے، اس کو ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا دعا ہی ہے جو سیدھے راستے پر چلانے والی ہے اور چلا سکتی ہے کہ اپنی ذمہ داری کو دعاؤں کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں۔جہاں تک میری ذات کا سوال ہے۔میں جہاں اپنے لئے دعا کرتا ہوں، عہد یداروں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ انصاف پر قائم رکھتے ہوئے ، سیدھے راستے پر چلائے۔کبھی ان سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جس کا اثر پھر آخر کار یا نتیجتاً مجھ پر بھی پڑے۔یہاں جماعت کو بھی یہ توجہ دلا دوں کہ آپ لوگ بھی اپنی ذمہ داری کا صحیح حق ادا نہیں کر رہے ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ خادم مالک کے مال کا نگران ہے، اگر آپ اس ذمہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اُسے ادا نہیں کر رہے جو خلیفہ وقت نے آپ کے سپرد کی ہے۔اس کی صحیح ادائیگی نہ کر کے آپ بھی اس مال کی نگرانی نہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہوں گے۔جب خلیفہ وقت نے آپ سے مشورہ مانگا ہے تو اگر آپ صحیح مشورہ نہیں دیتے تو خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو منتخب نہیں کرتے جو اس کام کے اہل ہیں جس کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے، اگر ذاتی تعلق ، رشتہ داریاں اور برادریاں آڑے آ رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی نا فرمانی کر رہے ہیں کہ تُؤدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء: 59) یعنی تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپر د کرو جو ہمیشہ عدل پر قائم رہنے والے ہوں۔اور اس اصول پر چلنے والے ہوں کہ جب بھی فیصلہ کرنا ہے تو اس ارشاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ تَحْكُمُوا بِالْعَدْل (النساء: 59) کم انصاف سے فیصلہ کرو۔جو ذمہ داریاں سپرد کی گئی ہیں ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرو۔