سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 172

172 سبیل الرشاد جلد چہارم اور مہاجرین اور انصار میں سبقت لے جانے والے اولین اور وہ لوگ جنہوں نے حسن عمل کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کیلئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔وہ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔یہ بہت عظیم کامیابی ہے۔پس یہ لوگ ہیں جو ہمارے لئے مثال اور نمونہ کے طور پر پیش کئے گئے ہیں جنہوں نے اپنا ہر عہد نبھایا اور اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور جنتوں کے وارث ٹھہرے۔یہاں میں ان میں سے ایک گروہ جو عليه انصار کہلاتے ہیں کا کچھ ذکر کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے جب تک آنحضرت علی اللہ ہجرت کر کے مدینہ نہیں آگئے تھے، آنحضرت صلی اللہ کی صحبت سے اس طرح فیض نہیں پایا تھا جس طرح مکہ کے ابتدائی مسلمانوں نے فیض پایا اور ایمان میں ترقی کی۔لیکن ہجرت کے وقت جب آنحضرت علی اللہ نے مواخات کا سلسلہ شروع کیا ، ایک دوسرے کے بھائی بنائے تو انصار نے مہاجر بھائیوں کیلئے حقوق العباد کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتے ہوئے اپنی جائیدادوں میں سے نصف حصہ ان کو دے دیا، اپنی آمدنیوں میں سے نصف حصہ ان کو دے دیا، ہر چیز بانٹ کر کھانے لگ گئے اور پھر جب آنحضرت علی یا اللہ کی صحبت کا اثر ہوا، قوت قدسیہ کا اثر ہوا تو أَسْلَمْنَا سے آمَنَّا کا ادراک پیدا ہوا۔جنگ بدر میں انصاری سردار نے کیا خوبصورت جواب دیا جب آنحضرت علی اللہ ہر ایک سے مشورہ کر رہے تھے تو ہر دفعہ جب آنحضرت علب الا اللہ پوچھتے تھے کہ کس طرح عليلى جنگ لڑی جائے تو مہاجرین ہمیشہ کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ ہم حضور عبید اللہ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے لیکن آنحضرت عبید اللہ پھر یہی سوال دہراتے جاتے تھے کہ مشورہ دو۔اس پر ایک انصاری سردار نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور کا ارشاد یا اشارہ شاید ہماری طرف ہے، آپ نے فرمایا ہاں۔تو انصاری سردار نے عرض کی کہ پھر ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ سے پہلا معاہدہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہوا تھا اور وہ آپ کی حفاظت اس صورت میں کرنے کا تھا کہ اگر مدینہ میں دشمن آپ پر حملہ کرے تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور مدینہ سے باہر نکل کر حفاظت کی ذمہ داری ہم نہیں لے سکتے۔لیکن اب آپ بدر کے میدان میں کھڑے ہیں ، مدینہ سے باہر ہیں تو ہمارے سے ہماری صلى الله رائے پوچھ رہے ہیں۔حضور علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہاں اسی لئے میں پوچھ رہا ہوں۔تو انصار سردار نے عرض کیا کہ جب یہ پہلا معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت ہم آپ کے پیارے وجود اور پیاری تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔اب حقیقت ہم پر مکمل طور پر کھل گئی ہے، ہر طرح سے روشن ہوگئی ہے۔اب اے اللہ کے رسول علم اس معاہدہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، اب ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح یہ جواب نہیں دیں گے فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُوْنَ (سورة المائدہ:25) کہ تو اور تیرا رب جا کر دشمن