سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 171

171 سبیل الرشاد جلد چہارم آئندہ زندگی تھوڑی نظر آتی ہے یا آرہی ہوتی ہے تو کس قدر اس امر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارا نَحْنُ أَنْصَارُ الله کا نعرہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے لگایا ہو نعرہ ہو اور ہمارا ہر قدم جو اس راہ میں اٹھے وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ترلے جانے والا قدم ہو ، وہ صدق سے اٹھا ہوا قدم ہو، سچائی اس میں سے پھوٹ رہی ہو۔اللہ کی عبادتوں کی طرف بھی ہماری نظر ہو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہنے کی طرف بھی ہماری توجہ ہو اور اخلاق کے اعلیٰ معیار بھی ہم قائم کر رہے ہوں، حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہمارا مطمع نظر ہو اور اپنے اپنے دائرے میں اعلیٰ اخلاق کو پھیلانے اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف ہماری بھر پور کوشش ہو اور ان سب امور میں جن میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی شامل ہیں اور حقوق العباد بھی شامل ہیں ہمارے سے غفلت نہ ہو، کبھی ہم سنتی دکھانے والے نہ ہوں۔آنحضور کے دور میں کُونُوا أَنْصَارُ اللہ کی پکار اور صحابہ کا نمونہ جب یہ خصوصیات ہم میں پیدا ہو جائینگی تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی ہے جو آنحضرت عبید اللہ کے صحابہ کہلاتے ہیں اور جنہوں نے اپنی روشن اور چمکدار مثالیں اس عہد کے نبھانے کیلئے قائم کی ہیں۔یہ دو طرح کے لوگ تھے ایک گروہ مہاجر کہلایا اور ایک گروہ انصار کہلاتا ہے۔جہاں تک حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی طرح انصار بننے کا سوال ہے، آنحضرت علی اسلم کے صحابہ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ملا کہ كُونُوا أَنْصَارَ اللہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جاؤ ، تو کیا مہاجرین اور کیا انصار سب ہی اس اعزاز کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے اور وہ کا رہائے نمایاں دکھائے ، ایسے ایسے کام کئے کہ ان کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔یہ سب کچھ جو ہم غیر معمولی قربانیوں کے معیار اور اپنی حالتوں کو یکسر بدلنے کے نظارے صحابہ میں دیکھتے ہیں یہ اللہ اور اس کے رسول سے غیر معمولی محبت کی وجہ سے تھا، جو محبت صحابہ کے ایمانوں کی ترقی نے پیدا کر دی تھی۔ان کی عبادتوں کے معیار بھی ایسے تھے کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں، ان کے دین کی خاطر جان مال، وقت کی قربانی کے معیار بھی ایسے تھے کہ جن کا کوئی مقابلہ نہیں ، ان کی آپس کی محبت اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کے معیار بھی ایسے تھے کہ حیرت ہوتی ہے اور یہ لوگ ایسے تھے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:۔والشبقُونَ الاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهجريْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنْتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيْهَا أَبَدًا ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - (التوبة: 100)