سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 170

سبیل الرشاد جلد چہارم 170 تمہارا دعویٰ ہے کہ تم ایمان لے آئے ، تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ اَسلَمنا کہ ہم نے فرمانبرداری قبول کر لی ہے۔پس یہ أَسْلَمْنَا کی حالت آمنا میں تب داخل ہو گی جب اپنا کچھ بھی نہیں ہوگا اور سب کچھ خدا تعالیٰ کی خاطر ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔" مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کیلئے اختیار کرتے اور اسکی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔" ( تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 103 تفسیر مسیح موعود جلد چہارم صفحہ 226,225) 40 سال سے اوپر ہر ناصر کے دل میں اللہ کا خوف پہلے سے زیادہ ہو تو ایک ناصر جو چالیس سال کی عمر سے اوپر جاچکا ہے، جس کی سوچ میں گہرائی آجانی چاہئے ، جس کو اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ اپنی زندگی کے کم ہونے کا احساس ہو جانا چاہئے ، جس کو اللہ کا خوف پہلے کی نسبت زیادہ ہونا چاہئے ، جو آنحضرت صلی اللہ پر کامل ایمان لاتے ہوئے آپ کے مسیح اور مہدی علیہ السلام کی جماعت میں بھی شامل ہو چکا ہے، اس کے اللہ کے مددگار بننے کے معیار بہت بڑھ جانے چاہئیں۔ہر وقت یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ ہم نے خدا کی رضا حاصل کرنی ہے۔تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنا ہے، جہاں ہر وقت یہ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے رتی بھر بھی ادھر اُدھر نہیں ہونا۔گو یہ بہت مشکل کام ہے لیکن ایک مومن کا یہی کام ہے کہ اس طرف توجہ رہے اور پھر ایسے شخص کو جس نے انصار اللہ ہونے کا عہد کیا ہے، ایمان کا یہ اعلیٰ معیار اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت سب محبتوں پر حاوی ہو جائے ، نہ مال کی محبت ہو نہ اولاد کی محبت ہو، نہ کسی اور چیز کی محبت ہو۔یہ معیار ہے جو ایک خالص مومن کو حاصل کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔" خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔" (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 309) تو دیکھیں یہ ایمان کا معیار ہے اور جیسا کہ میں نے کہا جب انسان اس عمر میں داخل ہوتا ہے جب