سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 29

سبیل الرشاد جلد چہارم 29 جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل کام نظام جماعت کا احترام قائم کرنا ہے اور اس کو صحیح خطوط پر چلانا ہے۔تو اس کے لئے عہد یداران کو ، کارکنان کو دو طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ایک تو وہ ہیں جو جماعت کے عام ممبر ہیں۔جتنے زیادہ یہ مضبوط ہوں گے، جتنا زیادہ ہر شخص کا نظام سے تعلق ہوگا، جتنی زیادہ ان میں اطاعت ہوگی ، جتنی زیادہ قربانی کا ان میں مادہ ہوگا ، اتنا ہی زیادہ نظام جماعت مضبوط ہوگا۔اور یہ چیزیں ان میں کس طرح پیدا کی جائیں۔اس سلسلہ میں عہدیداران کے فرائض کیا ہیں؟ اس کا میں اوپر تذکرہ کر چکا ہوں۔اگر وہ پیار محبت کا سلوک رکھیں گے تو یہ باتیں لوگوں میں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔اور یہی آپ کا گروہ ہے جتنازیادہ اس کا تعلق جماعت سے اور عہدیدارن سے مضبوط ہوگا، اتنا ہی زیادہ نظام جماعت بھی آرام سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے چلے گا۔اتنا زیادہ ہی ہم دنیا کو اپنا نمونہ دکھانے کے قابل ہوسکیں گے۔اتنی ہی زیادہ ہمیں نظام جماعت کی پختگی نظر آئے گی۔جتنا جتنا تعلق افراد جماعت اور عہدیداران میں ہوگا۔اور پھر خلیفہ وقت کی بھی تسلی ہوگی کہ جماعت ایسی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکی ہے جن سے بوقت ضرورت مجھے کارکنان اور عہد یداران میسر آ سکتے ہیں۔اگر کسی جگہ کچھ جماعتیں تو اعلیٰ معیار کی ہوں اور کچھ جماعتیں ابھی بہت پیچھے ہوں تو بہر حال یہ فکر کا مقام ہے۔تو عہدیداران کو اپنے علاقہ میں، اپنے ضلع میں یا اپنے ملک میں اس نہج پر جائزے لینے ہوں گے کہ کہیں کوئی کمی تو نظر نہیں آرہی۔اپنے کام کے طریق کا جائزہ لینا ہوگا۔اپنی عاملہ کی مکمل Involvement کا یا مکمل ان کاموں میں شمولیت کا جائزہ لینا ہوگا۔کہیں آپ نے عہدے صرف اس لئے تو نہیں رکھے ہوئے کہ عہدہ مل گیا ہے اور معذرت کرنا مناسب نہیں اس لئے عہدہ رکھی رکھو اور اس سے جس طرح بھی کام چلتا ہے چلائے جاؤ۔اس طرح تو جماعتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہوگا۔اگر تو ایسی بات ہے تو یہ زیادہ معیوب بات ہے اور یہ زیادہ بڑا گناہ ہے بہ نسبت اس کے کہ عہدے سے معذرت کر دی جائے۔اس لئے ایسے عہد یدار تو اس طرح جماعت کے نظام کو، جماعت کے وقار کو نقصان پہنچانے والے عہد یدار ہیں۔عہدیداران اپنے ماتحت عہدیداروں کو استخفاف کی نظر سے نہ دیکھیں دوسرے یہ ذمہ داری ہے عہدیداران کی عام لوگوں سے ہٹ کر، اپنے دوسرے برابر کے عہد یداروں یا ماتحت عہدیداران یا کارکنان کا احترام ہے۔یہ کوئی دنیاوی عہدہ نہیں ہے جس طرح میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں کہ جو آپ کومل گیا ہے اور کوئی سمجھ بیٹھے کہ اب سب طاقتوں کا میں مالک بن گیا ہوں۔یہاں بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے امیر اپنی عاملہ کا احترام کریں، ان کی رائے کو وقعت دیں، اس پر غور کریں۔اسی طرح اگر کوئی ماتحت بھی رائے دیتا ہے تو اس کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھیں، کم نظر سے نہ دیکھیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ مشورہ کریں تو ہم، آپ تو بہت معمولی چیز ہیں۔تو کسی کی رائے کو کبھی بھی تکبر کی نظر