سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 403
403 سبیل الرشاد جلد چهارم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے سے نواحمد یوں میں پیدا ہورہی ہے۔پھر ہمارے ایلڈوریٹ (Eldoret) کینیا کے مبلغ ہیں۔مسجد کے احاطے میں اُن کا جو دفتر تھا وہاں کسی طرح مخالف احمدیت نے داخل ہو کر جو اصل میں تو پہلے ملازم تھا اور وہاں اُس کا آنا جانا تھا۔بہر حال کچھ ناراضگیاں ہو گئیں اور اُس کو فارغ کیا گیا تو اُس نے داخل ہو کر چھت کی جو سیلنگ (ceiling) ہوتی ہے اُس میں وہ دوائی ، وہ نشہ آور ڈرگز رکھ دیں جو ممنوعہ ہیں۔اور پولیس کو رپورٹ کر دی کہ یہاں احمدی مبلغ رہتا ہے اور اسلام کی تبلیغ کا تو یہ بس ایک بہانہ ہے۔اصل میں تو یہ ڈرگ کا کاروبار کرتا ہے۔اس پر پولیس نے اپنی کارروائی کرتے ہوئے دفتر پر چھاپا مارا اور جب اُس کی بتائی ہوئی جگہ چھت میں سے کھولی تو وہاں سے دوائی حاصل ہو گئی۔بہر حال پولیس کو سب کچھ بتایا گیا کہ یہ کسی مخالف نے شرارت کی ہے لیکن پولیس نے کچھ نہیں سنا اور انہوں نے کہا ہم تو اپنی کاروائی کریں گے۔ہمارے مشنری کو پولیس سٹیشن لے گئے اور حوالات میں بند کر دیا۔اگلے دن کیس عدالت میں پیش ہوا تو جج نے کیس سننے کے بجائے تاریخ دے دی۔خیر انہوں نے مجھے بھی یہاں اطلاع کی تو اُن کو میں نے دعائیہ جواب بھی دیا۔پھر دوبارہ پیشی ہوئی تو کہتے ہیں جب میں جاتا اور کٹہرے میں جج کے سامنے پیش ہوتا تھا تو مج بڑے غور سے مجھے دیکھتا تھا اور اُس کے بعد gentleman sit down کہہ کے وہ مجھے بٹھا دیتا تھا اور وکیلوں کو اگلی تاریخ دے دیتا تھا۔کہتے ہیں عدالت میں حاضر ہونے کی تاریخ سے دو دن قبل صبح کی نماز کے بعد جب بہت فکر پیدا ہوئی تو میں نے دعا کی۔قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگا تو دل میں خیال آیا کہ قرآن سے نیک فال نکالی جائے تو سوچا کہ قرآن کو کھولتے ہیں جس لفظ پر نظر پڑے گی اُس میں کوئی پیغام ہوگا۔جب دیکھا تو اس آیت پر نظر پڑی کہ يَنَارُ كُونِي بَرْدًا وَّسَلَمًا عَلى إِبْرَاهِيمَ (الانبیاء (70) اس سے دل کو تسلی ہوئی کہ پیغام تو اچھا ہے۔خیر کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد میں ڈاکخانہ سے ڈاک لینے گیا تو وہاں میرا خط بھی اُس میں اُن کو آیا ہوا تھا جس میں میں نے یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور حفاظت میں رکھے اور منافقین کو اپنے منصوبوں میں نا کام کرے اور جماعت کو ہر ابتلاء سے بچائے اور مزید ترقیات دے۔کہتے ہیں یہ خط پڑھنے کے بعد اور یہ ( آیت) دیکھنے کے بعد میرے دل میں مینیج کی طرح یہ گڑھ گیا کہ اب ضرور اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور چند احباب کو بھی میں نے یہ خوشخبری سنادی کہ اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں جب میں عدالت میں حاضر ہوا تو حسب سابق جج نے مجھے بٹھا دیا اور وکیلوں سے بات کرنے کے بعد مجھے کہا کہ تم آزاد ہو۔جاؤ اور اپنا کام کرو۔تمہارے خلاف کوئی کیس نہیں۔پس اگر ایمان مضبوط ہو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین ہوتا ہے۔اور انسان صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر نشان دکھاتا ہے۔یہی باتیں ہیں، یہ جہاں اپنا ایمان مضبوط کرتی ہیں، اپنی