سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 295
سبیل الرشاد جلد چہارم 295 ہونے کا زبانی اقرار ہے تو نماز اس کی عملی تصویر ہے۔پس میری پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ نمازوں میں با قاعدگی اختیار کریں اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے نیک نمونہ قائم کریں۔دوسری بات قرآن کریم کی تلاوت، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ہے۔ہر مرتبہ پڑھنے سے نئے نئے معنی کھلتے ہیں۔یہ مطالعہ جہاں آپ کو معرفت میں بڑھائے گا وہاں اس سے آپ کے بچوں کیلئے بھی ایک نیک نمونہ قائم ہوگا اور آپ کا یہ علم دعوت الی اللہ کے میدان میں بھی آپ کا مددگار ثابت ہوگا۔تیسری بات دین کی خاطر مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینا ہے۔میں نے صف دوم کے انصار کو نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ہر مجلس کی سطح پر اس کیلئے کوشش ہونی چاہئے۔اس نظام میں شامل ہونے والوں کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دُعائیں کی ہیں۔اسی طرح دوسری مالی تحریکات بھی ہیں۔ان میں بھی حصہ لیں اور اس حوالے سے اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم انصار اللہ ہونے کا حق میں سے اپنا کہ انصار اللہ کا ادا کر رہے ہیں؟ انصار اللہ کا ایک اور اہم کام خلافت سے وابستگی اور اُس کے استحکام کیلئے کوشش کرنا ہے۔جماعت اور خلافت ایک وجود کی طرح ہیں۔افراد جماعت اس کے اعضاء ہیں تو خلیفہ وقت دل و دماغ کے طور پر ہیں۔کیا کبھی ایسا ممکن ہوا ہے کہ انسانی دماغ ہاتھ کو کوئی حکم دے اور ہاتھ اُسے رڈ کر کے اپنی مرضی کے مطابق حرکت کرے۔اگر آپ اس تعلق کو سمجھ جائیں اور اگر یہ سوچ ہر ایک میں پیدا ہو جائے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی فرد جماعت اپنے فیصلوں اور اپنے علمی نکتوں اور اپنے عملوں پر اصرار کریں۔پس آپ کی ہر حرکت و سکون خلیفہ وقت کے تابع ہونی چاہئے۔انصار اللہ کو ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ آپ کے عملی نمونے اور پاک تبدیلیاں دوسری تنظیموں اور افراد جماعت سے بڑھ کر ہونی چاہئیں۔ہمارے بڑوں نے انصار اللہ ہونے کا حق ادا کیا اور بے نفس ہو کر دین کی خاطر قربانیاں کیں تو آج ہمارا فرض ہے کہ ایک جہد مسلسل اور دُعاؤں کے ساتھ اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے نیکی کے راستے ہموار کرتے جائیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کو پلے باندھ لیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے۔اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں۔“