سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 220

220 سبیل الرشاد جلد چہارم سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى الله کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ان کے مَنْ أَنْصَارِی اِلَی اللہ کہنے میں بھی ایک شان ہوتی ہے۔وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں۔جو دعا کا ایک شعبہ ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اور اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (المومن:52) یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔آپ نے فرمایا۔کہ میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیونکر مددکر سکے۔پس یہاں یہ فرمایا کہ نبیوں کو مدد کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ خود مدد کر سکتا ہے اور ان نبیوں کو پورا یقین بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان کو کھڑا کیا ہے تو ضرور مدد بھی کرے گا۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اور میر ا رسول غالب آئیں گے۔تو جب غالب آئیں گے یہ تو نہیں فرمایا کہ فلاں فلاں مدد کرے گا تو غالب آئیں گے۔اللہ نے اپنی مدد کے ساتھ یہ اعلان کروایا ہے کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ میں اور میرا رسول غالب آئیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ الہام ہوا اور کئی دفعہ ہوا۔تو انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت نے ہی پھیلنا ہے اور اسلام نے ہی پھیلنا ہے۔اور یہ غلبہ تو ہونا ہے۔لیکن خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو انصار اللہ کا حق ادا کرنے والے ہوں گے جو اس غلبہ میں شامل ہو جائیں گے۔فرمایا نبی اگر مدد کے لئے کہتے ہیں تو تمہارے بھلے کے لئے کہتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ تمہیں مدد کے لئے بلاتا ہے تو تمہارے بھلے کے لئے ہوتا ہے۔پس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھو۔پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے مدد چاہتے ہیں۔یہ مدد کیوں چاہتے ہیں۔اس لئے چاہتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دلوں میں پیدا ہو جائے۔انبیاء کا فرض ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہو، ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو، ان کے دلوں میں خشیت پیدا ہو۔خدا تعالیٰ کی عظمت پیدا ہو اور وہ ، وہ کام کریں جو خدا تعالیٰ انبیاء سے چاہتا ہے کہ وہ بھی کریں۔تبلیغ اس وقت تک بار آور نہیں ہو سکتی جب تک قول و فعل میں یکسانیت نہ ہو خدا تعالی انبیاء کو دنیا میں اصلاح کے لئے بھیجتا ہے۔خدا تعالیٰ انبیاء کو اپنی وحدانیت قائم کرنے کے لئے بھیجتا ہے، خدا تعالیٰ انبیاء کو دنیا میں انسانوں کو اپنے قریب لانے کے لئے بھیجتا ہے۔پس اگر انبیاء کے سپر دیہ کام ہے تو یہی کام جب انصار اللہ کے سپرد ہوتا ہے، انبیاء کے مددگاروں کے سپرد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہی