سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 221

221 سبیل الرشاد جلد چہارم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دنیا میں قائم کریں اور وہ اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک خود اپنے دلوں میں قائم نہ ہو۔جب تک خود وہ اُسوہ رسول پر چلنے والے نہ ہوں ، ان کے عمل اس وقت تک بار آور نہیں ہو سکتے جب تک خود ان کے ہر قول وفعل میں یکسانیت نہ پائی جاتی ہو۔تبلیغ اس وقت تک بارآور نہیں ہو سکتی جب تک ان کے قول و فعل میں یکسانیت نہ پائی جاتی ہو۔پس یہ چیزیں ہیں ، یہ حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کے لئے انبیاء کو کہتا ہے کہ لوگوں کو بلاؤ تا کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا قرب عطا کرے۔ان کو بخشے اور ان کو اس دنیا میں بھی اپنے پیار سے نوازے اور آخرت میں بھی ان کے درجات بلند کرے۔انصار اللہ کے کام پس انصار اللہ کا یہ کام ہے کہ نیکیوں میں بڑھیں۔اپنا تعلق خدا تعالیٰ سے پیدا کریں۔تقویٰ میں ترقی کریں اور صرف انصار ہی نہیں ہر شخص ، ہر احمدی جس نے یہ عہد کیا ہے۔نوجوان بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے سامنے اور وہ بھی میرے مخاطب ہیں اور یہی چیز ہے جو اس زمانہ میں اپنے عہدوں کا پورا کرنے والی ہر ایک کو بنائے گی۔یہی چیز ہے جو انصار اللہ بنے کی طرف نئے نئے راستے آپ کو دکھائے گی کہ انصار اللہ چیز کیا ہے اور کس طرح ہم نے اپنے معیار اونچے کرتے چلے جانا ہے کیونکہ بغیر نیکی اور تقویٰ کے ہم حقیقی انصار کہلانے والے نہیں ہو سکتے۔پس ہمیشہ جب آپ یہ چیز اپنے سامنے رکھیں گے کہ انصار اللہ ہمارا نام رکھا گیا ہے تو اس کی طرف ہم نے توجہ کرنی ہے۔اپنے اعمال کے جائزے لیں گے۔اپنی عبادتوں کے جائزے لیں گے۔اپنے اخلاق کے جائزے لیں گے تبھی اس مقام کو حاصل کرنے والے بنیں گے جس کی طرف اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں لے جانا چاہتے ہیں اور ہمیں وہ مقام دلوانا چاہتے ہیں۔مدینہ کے انصار کی قربانیاں حضور انور نے فرمایا۔اسلام میں انصار کا لفظ استعمال ہوا ان لوگوں کے لئے جو مدینہ کے رہنے والے تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہ انصار تھے جنہوں نے آپ کو خوش آمدید کہا اور آپ کے ساتھ جانے والے مہاجرین بھی شامل تھے۔قربانیوں کے ان کے معیار کیا تھے۔عبادتوں کے ان کے معیار کیا تھے۔تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نہیں بلکہ جو دوسرے ان کے بھائی تھے ، جو مہاجرین ہجرت کر کے آئے تھے ان کے بھی حق ادا کئے۔کہاں تک حق ادا کئے۔وہ غریب جو لٹے پٹے آئے تھے ان کو اپنی جائیدادوں کا حصہ دار بنادیا۔لیکن مہاجرین کا بھی اپنا مقام تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری مدد