سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 201

201 سبیل الرشاد جلد چہارم حضور نے فرمایا کہ اگر چہ خدام الاحمدیہ بھی اس طرف توجہ کر رہی ہے لیکن اگر انصار والدین ان کی نگرانی نہیں کریں گے تو اس کا اتنا اثر نہیں ہوگا۔اس لئے ساری تنظیمیں جو بنائی گئی ہیں ان کا مقصد یہ تھا کہ ہرتنظیم اپنی اپنی ذمہ داری سمجھے۔اگر لجنہ میں کمی ہے تو انصار سے پوری ہو ، اگر انصار میں کمی ہے خدام سے پوری ہو، خدام کی کمی ہے انصار پوری کریں۔ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوں اور جب پھر جماعتی طور پر کمزوری ہے تو ذیلی تنظیمیں اس کو پورا کر رہی ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام Active ہو جائے تو ہمارے جو ترقی کے قدم ہیں وہ کئی گنا بڑھ جائیں۔قرآن پڑھنا، پڑھانا انصار اللہ کی ذمہ داری ہے حضور نے فرمایا کہ بچوں کی نگرانی کرنا انصار کی بھی ذمہ داری ہے۔پھر قرآن کریم کی تلاوت ہے۔قرآن کریم کا پڑھنا، پڑھانا۔یہ انصار اللہ کی ذمہ داری ہے۔اس بارہ میں خطبے میں میں تفصیل سے بتا چکا ہوں۔دو سال پہلے آپ نے اس کا پروگرام بھی بنایا تھا۔پروگرام تو بڑا اچھا بنا تھا مجھے نہیں پتہ کس حد تک اس پر عمل ہو رہا ہے۔قرآن کریم پڑھانے کا انٹرنیٹ کے ذریعہ سے ایک نظام بھی شروع کر وایا تھا وہ بھی جاری رہنا چاہئے لیکن اس میں بھی جو شرکت ہے وہ بہت کم ہے۔پھر اس کے علاوہ آمنے سامنے بیٹھ کے جو کلاسیں لگتی ہیں وہ مجالس میں لگنی چاہئیں ، گھروں میں لگنی چاہیں۔پھر آپ انصار میں بہت سے ایسے ہیں جو اردو پڑھنا جانتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے اقتباسات کا درس اگر گھروں میں دینا شروع کر دیں تو آپ لوگوں کے بچوں کو پتہ لگے کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کیا تھی؟ کیا روح وہ ہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے اور کس طرح ہم نے اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کرنی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ایک تو مسجد میں درس ہوتا ہے یا نماز سنٹر میں درس ہوتا ہے، لیکن بہت سے ایسے ہیں جو فاصلے کی وجہ سے مسجد نہیں جاسکتے یا با قاعدگی سے نہیں جاسکتے۔اگر پانچ سات منٹ کا درس کا نظام گھروں میں شروع ہو جائے تو اس کا بہت فائدہ ہوگا۔جو اردو پڑھنا نہیں جانتے انگلش پڑھنے والے ہیں Essence Of Islam۔s سے ایک پیرا یا چند لائنیں اپنے اپنے گھروں میں درس دیں۔اقتباسات پڑھ کر سنائیں۔مختلف عنوانات کے تحت پڑھ کر سنائیں تو ایک شوق پیدا ہوگا۔ذیلی تنظیموں کو باہمی تعاون سے کام کرنا چاہئے حضور نے فرمایا کہ بعض دفعہ مثل الجنہ کی طرف سے اگر نمازوں اور قرآن کریم کی تعلیم کی یا درس کی سکیم بنتی ہے تو انصار کی طرف سے بھی بن جائے اور خدام کی طرف سے بھی بن جائے اور سب مل کر ایک ہی روح سے کام کریں تو اس سے پھر اثر زیادہ ہوگا۔بشرطیکہ لجنہ اور انصار اور خدام کے تعلقات اچھے ہوں کیونکہ بعض دفعہ