سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 131
131 سبیل الرشاد جلد چہارم کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی ہوگی۔وہ اطاعت جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے حدیث میں آتا ہے کہ امیر کی اطاعت کرو گے تو میری اطاعت کرو گے اور میری اطاعت کرو گے تو خدا کی اطاعت کرو گے۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ رحم حاصل کرنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اطاعت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آسان کام نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے اطاعت کے دائرے میں ہی ایک احمدی نے رہنا ہے۔بہت سی باتیں عہد یداران یا امراء کی طرف سے ایسی ہوتی ہیں جو طبیعت پر گراں گزرتی ہیں۔لیکن جماعت کے وقار اور اپنی عاقبت کے لئے ان کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور اس صبر کا ثواب بھی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے نا پسندیدہ بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہوا اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔( بخاری کتاب الاحکام باب اسمع والطاعة الامام مالم تكن معصية ) پس اس جاہلیت کی موت سے بچنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے اطاعت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو جہالت سے بچاتے ہوئے ہدایت پر قائم رکھے۔اللہ ہر احمدی کو تو فیق دے کہ وہ جماعت کے وقار اور تقدس کی خاطر اپنی اناؤں کو ختم کرتے ہوئے اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والا ہو، نہ کہ اپنے آپ کو جماعت سے کاٹ کر جاہلیت کی موت مرنے والا ہو۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ہر ایک پہ اپنا فضل فرمائے۔آمین خطبات مسر در جلد 4 صفحہ 277-287) نمائندگان شوریٰ میں سے ایک خاصی تعداد عہد یداران کی ہوتی ہے۔انہیں اپنی عاملہ کی مدد سے تعمیل کروانی چاہئے نیز عہد یداران کو عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی تلقین حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 24 مارچ 2006ءکو فرمایا: " اب میں نمائندگان سے بھی چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔شوری کی نمائندگی ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔یعنی جب شوری کا نمائندہ منتخب کیا جاتا ہے تو اس کی نمائندگی اگلی شوری تک چلتی ہے جب تک نیا انتخاب نہیں ہو جاتا۔صرف تین دن یا دو دن کے اجلاس کے لئے نہیں ہوتی۔شوری کے نمائندگان کے بعض کام مستقل نوعیت کے اور عہدیداران جماعت کے معاون کی حیثیت سے کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے مستقلاً