سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 123

سبیل الرشاد جلد چہارم 123 لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309) نظام خلافت و جماعت سے جُڑے رہنے کے لئے اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس دائمی قدرت کے ساتھ وابستہ رہنے کے لئے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے جڑے رہنے اور خلافت سے وابستہ رہنے کے لئے ، اطاعت کے وہ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے جو اعلیٰ درجہ کے ہوں جن سے باہر نکلنے کا کسی احمدی کے دل میں خیال تک پیدا نہ ہو۔بہت سارے مقام آسکتے ہیں جب نظام جماعت کے خلاف شکوے پیدا ہوں۔ہر ایک کی اپنی سوچ اور خیال ہوتا ہے اور کسی بھی معاملے میں آراء مختلف ہوسکتی ہیں، کسی کام کرنے کے طریق سے اختلاف ہوسکتا ہے۔لیکن نظام جماعت اور نظام خلافت کی مضبوطی کے لئے جماعتی نظام کے فیصلہ کو یا امیر کے فیصلہ کو تسلیم کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ خلیفہ وقت نے اس فیصلے پر صاد کیا ہوتا ہے یا امیر کو اختیار دیا ہوتا ہے کہ تم میری طرف سے فیصلہ کر دو۔اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور اس سے جماعتی مفاد کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو خلیفہ وقت کو اطلاع کرنا کافی ہے۔پھر خلیفہ وقت جانے اور اس کا کام جانے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو ذمہ دار اور نگران بنایا ہے اور جب خلیفہ، خلافت کے مقام پر اپنی مرضی سے نہیں آتا بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کو اس مقام پر اس منصب پر فائز کرتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے کسی غلط فیصلے کے خود ہی بہتر نتائج پیدا فرمادے گا۔کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ خلافت کی وجہ سے مومنوں کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا۔مومنوں کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے احکامات کی بجا آوری کریں اور اس کے رسول کے حکموں کی پیروی کرنے کی کوشش کریں اور کیونکہ خلیفہ نبی کے جاری کردہ نظام کی بجا آوری کی جماعت کو تلقین کرتا ہے اور شریعت کے احکامات کو لاگو کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے اس کی اطاعت بھی کرو اور اس کے بنائے ہوئے نظام کی اطاعت بھی کرو۔اور افراد جماعت کی یہ کامل اطاعت اور خلیفہ وقت کے اللہ کے آگے جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے کئے گئے فیصلوں میں اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اور اپنے بنائے ہوئے خلیفہ کو دنیا کے سامنے رُسوا ہونے سے بچانے کے لئے برکت ڈال دے گا۔کمزوریوں کی پردہ پوشی فرمادے گا اور اپنے فضل سے بہتر نتائج پیدا فرمائے گا اور من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو ہمیشہ بڑے نقصان سے بچالیتا ہے اور یہی ہم نے اب تک اللہ تعالیٰ کا جماعت سے اور خلافت احمدیہ سے سلوک دیکھا ہے اور دیکھتے آئے ہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ يَا يُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوا أَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء:60) اے وہ لوگو! جو ایمان