سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 80
80 سبیل الرشاد جلد چہارم قبول فرماتے ہوئے اپنے قرب سے نوازے۔اس موقع پر میں اپنے انصار بھائیوں اور خاص طور پر صف دوم کے انصار کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس طرف خاص توجہ دیں۔وہ انصار جو اپنے دلوں میں ایمان اور اخلاص تو رکھتے ہیں مگر وصیت کے بارہ میں سنتی دکھلا رہے ہیں میری ان کو یہ نصیحت ہے کہ وہ اشاعت اسلام کی خاطر اور اپنے نفوس میں نیک اور پاک تبدیلیوں کے لئے وصیت کی طرف جلدی بڑھیں کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ یہ جنت کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔زندگی بہت مختصر ہے اور نہیں معلوم کہ کس وقت خدا تعالیٰ کی طرف بلاوا آ جائے۔بعض بڑے مخلصین بغیر وصیت کے نظام میں شامل ہوئے وفات پا جاتے ہیں اور پھر حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ بھی مخلصین کے ساتھ مقبرہ موصیان میں دفن کئے جاتے۔ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے قربانی کرنے والے ہیں کہ وہ اپنے اموال کے دسویں حصہ سے زیادہ چندہ دیتے ہیں اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر وصیت کرنے میں سستی کرتے ہیں ایسے دوستوں کو میرا یہ پیغام ہے کہ وہ سستیاں ترک کریں اور اس نظام میں شامل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔وصیت کی شرائط کو اگر غور سے پڑھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ صرف ایک مالی قربانی کی ہی تحریک نہیں ہے بلکہ اپنے نفسوں کو پاک اور صاف کرنے کا ایک مسلسل جہاد ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔سچا اور صاف مسلمان ہو، پس اس لحاظ سے انصار کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے تیار کریں۔اپنے بچوں کی بچپن سے ہی دینی ماحول میں تربیت کریں ، نمازوں کی عادت ڈالیں۔مالی قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں پیدا کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اقدس مسیح موعود اور نظام خلافت سے محبت اور اطاعت کا جذبہ ان میں اُجاگر کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔اپنی نسلوں کو دنیا کے عذاب سے بچانے والے ہوں گے۔قُوْا أَنفُسَكُمْ وأَهْلِيكُمْ نَاراً (التحریم: 7) پر عمل کرنے والے ہوں گے۔حضرت اقدس مسیح موعودؓ فرماتے ہیں: " چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے روح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی اور نفسانی جذبات کو بگلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔وہ درد جس سے خدا راضی ہو اس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے" (الوصیت )