سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 67

67 سبیل الرشاد جلد چہارم گا، گھروں میں ان کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا، ان کی خدمات کو سراہا جائے گا تو یقیناً ان ذکروں سے گھر میں بچوں میں بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم وقف کر کے مربی بنیں۔تو اس لحاظ سے بھی عہد یداران کو خیال کرنا چاہئے۔چھوٹے موٹے اختلافات کو ایشو (Issue) نہیں بنا لینا چاہئے جس سے دونوں طرف بے چینی پھیلنے کا اندیشہ ہو۔۔۔۔عہدیداران مسکراتے چہرے کے ساتھ احباب کو ملیں۔۔۔۔اب عہد یداروں کو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ لوگوں کے لئے پیار اور محبت کے پر پھیلائیں۔خلیفہ وقت نے آپ پر اعتماد کیا ہے۔اور آپ پر اعتماد کرتے ہوئے اس پیاری جماعت کو آپ کی نگرانی میں دیا ہے۔ان کا خیال رکھیں۔ہر ایک احمدی کو یہ احساس ہو کہ ہم محفوظ پروں کے نیچے ہیں۔ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔بعض عہد یدار میں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ان کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ پر عمل کرنا چاہئے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔(بخاری کتاب الادب باب القسم والضحک ) تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔بعض عہدیداروں کے متعلق شکوہ ہے کہ لوگ کسی کام کے لئے عہدیداروں کے پاس اپنے کام کا حرج کر کے جاتے ہیں تو بعض عہدیدار امراء، بعض دفعہ مہینہ مہینہ نہیں ملتے۔ہو سکتا ہے اس میں کچھ مبالغہ بھی ہو کیونکہ شکایت کرنے والے بعض دفعہ مبالغہ بھی کر جاتے ہیں لیکن دنوں بھی کسی سے کیوں چکر لگوائے جائیں۔اس لئے امراء کو چاہئے کہ وقت مقرر کریں کہ اس وقت دفتر ضرور حاضر ہوں گے اور پھر اس وقت میں لوگوں کی ضروریات پوری کریں۔بعض امراء یہ کرتے ہیں کہ اپنے نمائندے بٹھا دیتے ہیں اور ان نمائندوں کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ فلاں فیصلہ بھی کرنا ہے۔اب اگر اس فیصلے کے لئے جانا پڑے تو پھر ان کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ امراء خود جائیں یا پھر اپنے نمائندے کو پورے اختیار دیں کہ جو تم نے کرنا ہے کرو۔سیاہ وسفید کے مالک ہو۔پھر امیر بننے کی ضرورت ہی نہیں ہے پھر تو اسی کو امیر بنا دینا چاہئے۔پھر مسکراتے ہوئے اور خوش دلی سے ملیں۔جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کا معیار بڑا اونچا ہے۔ہر احمدی، اگر امیر مسکرا کر ملتا ہے تو اس کی مسکراہٹ پر ہی خوش ہو جاتا ہے، چاہے کام ہو یا نہ ہو۔اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا۔معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔اگر چہ اپنے بھائی۔خندہ پیشانی سے پیش آنے کی نیکی ہو۔(مسلم کتاب البر والصلۃ باب استحباب طلاقہ الوجه عند اللقاء) تو مسکرا کر ملنا اور