سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 64

سبیل الرشاد جلد چہارم 64 جیسی آپ چھاپ لگا دیں گے بچوں پر بھی اور نئے آنے والوں پر بھی۔آئندہ نمونے بھی ویسے ہی نکلیں گے، آئندہ عہدیدار بھی ویسے ہی بنیں گے۔تو خلاصہ یہ کہ غصے کو دبانا ہے اور عفو سے کام لینا ہے درگزر سے کام لینا ہے۔لیکن یہ نرمی بھی اس حد تک نہ ہو کہ جماعت میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔ایسی صورت میں بہر حال اصلاح کی کوشش بھی کرنی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ جو عادی نہیں ہیں ان کو تو معاف کر کے بھی اصلاح ہوسکتی ہے لیکن اگر جماعت میں فتنے کا خطرہ ہو تو پھر معافی کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔اور پھر یہ ہے کہ اگر ایسی بات ہو تو نہ صرف مقامی طور پر اس کی اصلاح کرنی ہے بلکہ اس کی مرکز کو بھی اصلاح کرنی چاہیئے۔لیکن سختی ایسی نہ ہو، جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جن کی اصلاح نرمی سے ہو سکتی ہے کہ وہ نو جوان اور نئے آنے والے دین سے ہی متنفر ہو جائیں۔عہد یداران ، عہدہ کو فضل الہی سمجھ کر قو م کا خادم بن کر خدمت کریں پھر عہد یداروں میں جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر اپنے خلاف ہی شکایت ہو تو سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ہمیشہ سچی بات کہنے سننے کرنے کی عادت ڈالیں۔چاہے جتنا بھی کوئی عزیز یا قریبی دوست ہوا گر اس کی صحیح شکایت پہنچتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔اگر یہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کہ معذرت کر دیں کہ فلاں وجہ سے میں اس کام سے معذرت چاہتا ہوں۔کیونکہ کسی ایک شخص کا کسی خدمت سے محروم ہونا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ پوری جماعت میں یا جماعت کے ایک حصے میں بے چینی پیدا کی جائے۔یادرکھیں جو عہدہ بھی ملا ہے چاہے وہ جماعتی عہدہ ہو یا ذیلی تنظیموں کا عہدہ ہواس کو ایک فضل الہی سمجھیں۔پہلے بھی بتا آیا ہوں اس کو اپنا حق نہ سمجھیں۔یہ خدمت کا موقع ملا ہے تو حکم یہی ہے کہ جو لیڈر بنایا گیا ہے وہ قوم کا خادم بن کر خدمت کرے۔صرف منہ سے کہنے کی حد تک نہیں۔چار آدمی کھڑے ہوں تو کہہ دیا جی میں تو خادم ہوں بلکہ عملاً ہر بات سے ہر فعل سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ یہ واقعی خدمت کرنے والے ہیں اور اگر اس نظریے سے بات نہیں کہ رہے تو یقیناً پوچھے جائیں گے۔جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کو پوری طرح ادا نہ کرنے کی وجہ سے یقیناً جواب طلبی ہوگی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت معقل بن سیار بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔اور اسے بہشت نصیب نہیں کرے گا۔(مسلم کتاب الایمان۔باب استحقاق الوالى الغاش لرعیة النار ) اب دیکھیں اس انذار کے بعد کون ہے جو بڑھ بڑھ کر اختیارات کو حاصل کرنے کی خواہش کرے یا