سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 56
56 سبیل الرشاد جلد چہارم نہیں ہیں جو اس طرح تعویذ وغیرہ کرتے ہیں۔ایسے لوگوں سے دعا کروانے والا بھی یہ سمجھتا ہے کہ میں جو مرضی کرتا رہوں ، لوگوں کے حق مارتا رہوں، میں نے اپنے بزرگ سے دعا کر والی ہے اس لئے بخشا گیا، یا میرے کام ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مومن کہلانا ہے تو میری عبادت کرو، اور تم کہتے ہو کہ پیر صاحب کی دعائیں ہمارے لئے کافی ہیں۔یہ سب شیطانی خیالات ہیں ان سے بچیں۔عورتوں میں خاص طور پر یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے، جہاں جہاں بھی ہیں ہمارے ایشین (Asian) ملکوں میں اس طرح کا زیادہ ہوتا ہے یا جہاں جہاں بھی Asians اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں وہاں بھی بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔اس لئے ذیلی تنظیمیں اس بات کا جائزہ لیں اور ایسے جو بدعات پھیلانے والے ہیں اس کا سد باب کرنے کی کوشش کریں۔اگر چند ایک بھی ایسی سوچ والے لوگ ہیں تو پھر اپنے ماحول پر اثر ڈالتے رہیں گے۔نہ صرف ذیلی تنظیمیں بلکہ جماعتی نظام بھی جائزہ لے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ چند ایک بھی اگر لوگ ہوں گے تو اپنا اثر ڈالتے رہیں گے۔اور شیطان تو حملے کی تاک میں رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے بننے کی بجائے اس طرح بعض شرک میں پڑنے والے ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بیماری چاہے چند ایک میں ہی ہو، جماعت کے اندر برداشت نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ تو یہ دعا سکھاتا ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک یہ دعا کرے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔خلیفہ وقت بھی یہ دعا کرتا ہے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔اور یہ پیر پرست طبقہ کہتا ہے کہ ہم جو مرضی عمل کریں ہمارے پیر صاحب کی دعاؤں سے ہم بخشے جائیں گے۔اِنَّا لِلہ۔یہ تو نعوذ باللہ عیسائیوں کے کفارہ والا معاملہ ہی آہستہ آہستہ بن جائے گا۔وہی نظریہ پیدا ہوتا جائے گا۔پس اس طرف چاہے یہ چھوٹے ماحول میں ہی ہو، بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ابھی سے اس کو دبانا ہوگا۔اور ہر احمدی یہ عہد کرے کہ اس رمضان میں اپنے اندر انشاء اللہ تعالیٰ انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ہر احمدی یہ کوشش کرے اور ہر احمدی خودان دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے مزے چکھے بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیچھے جائے" خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 764-765) دور ہٹے احمدیوں کو قریب لانے کی ذمہ داری ذیلی تنظیموں کی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 3 دسمبر 2004ءکو خطبہ جمعہ میں فرمایا: اگر چند ایک بھی ایسے احمدی ہوں جن کا جماعت سے اتنا زیادہ تعلق نہ ہو تعلق سے میری مراد ہے جماعتی پروگراموں میں حصہ نہ لیتے ہوں یا جلسوں وغیرہ پر نہ آتے ہوں یا جن کا دینی علم نہ ہو، ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑا پڑھا لکھا بھی سمجھتے ہیں ، یہ لوگ ایسی باتیں کر جاتے ہیں۔اپنے ماحول میں اس قسم کی باتوں سے بُرائی کا بیج بو سکتے ہیں۔یا بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ جو لا مذہب قسم کے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی