سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 52
52 سبیل الرشاد جلد چہارم إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ کہ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالے سچے وعدوں والا ہے۔وہ ضرور بضر ور اپنے وعدوں کے مطابق مددگار بھیجتا رہے گا، دین کے خادم بھیجتا رہے گا، دین کی نصرت کرنے والے بھیجتا رہے گا۔اور آج سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اس وعدہ کو پورا فرما رہا ہے اور آئندہ بھی فرمائے گا اور فرماتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ۔لیکن ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے اور اپنے عملوں کو درست کرتے ہوئے خدا سے یہ دعا مانگنی چاہئے کہ ہمارا بھی ان رجال میں شمار ہو جن کو خدا تعالیٰ قبول کرتے ہوئے مسیح موعود کے مددگاروں میں شامل کرے گا۔ورنہ اگر ہمارے عمل اس قابل نہیں ، ہماری عبادتیں سوز و گداز سے بھری ہوئی نہیں ، ہم اللہ کی نظر میں مقبول نہیں تو لاکھ ہم نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کہتے رہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اور دوسرے لوگ آکر یہ مقام لے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ تو اس طرح قبول نہیں کرتا وہ تو یہی کہے گا کہ پہلے اپنی حالت درست کرو، اپنے اعمال درست کرو، انسانی حقوق ادا کرو، پھر میرے دین کے مددگار کہلا سکتے ہو۔نحن انصار اللہ کا نعرہ لگانے سے قبل اس کے معانی پر غور کریں پس ہر ایک کو ہم میں سے اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے سے پہلے غور بھی کیا ہے کہ یہ کتنا گہرا اور وسیع نعرہ ہے۔کیا کیا قربانیاں دینی پڑیں گی اس کے لئے اور قربانیاں ہیں کیا ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کوئی جنگ ، توپ ، گولہ نہیں ہے، کسی گولے کے آگے کھڑا ہونا نہیں ہے، کسی توپ کے منہ کے سامنے کھڑے ہونا نہیں ہے ، تیروں کی بوچھاڑ کے آگے کھڑے ہونا نہیں ہے۔صحابہ کرام ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے ان کی طرح گردنیں کٹوانا نہیں ہے۔ہاں یہ قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کبھی کبھارا کا دکا لے لیتا ہے۔نمونے قائم رکھنے کے لئے اس طرح کرتا ہے۔لیکن قربانی جو اس زمانے میں کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں۔اپنے معاشرہ کے حقوق ادا کرنے ہیں۔اپنے مالوں کی قربانیاں دینی ہیں۔اپنی عبادتوں کو زندہ کریں پس انصار اللہ کا فرض بنتا ہے اور میں بار بار کہتا ہوں کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں، اپنے لئے ، اپنی اولادوں کیلئے ، اپنے معاشرہ کیلئے ، دکھی انسانیت کیلئے ، غلبہ اسلام کیلئے ایک تڑپ سے دعا مانگیں۔آخرت کی فکر اپنے دلوں میں پیدا کریں جب آخرت کی فکر زیادہ ہوگی تو معاشرہ کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ زیادہ ہوگی، قرآن کریم کے پڑھنے، پڑھانے کی طرف بھی توجہ کریں۔اس بارہ میں انصار اللہ نے پروگرام بھی