سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 41

سبیل الرشاد جلد چہارم 41 زبان بھی آئے گی۔اور آپ کچھ نہ کچھ زبان سیکھ لیں گے۔الفضل انٹر نیشنل یکم تا 7 اکتوبر 2004ء) قیادت تعلیم القرآن کی ذمہ داریاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 24 ستمبر 2004ء کو خطبہ جمعہ میں جماعت کو قرآن کریم پڑھنے اور اس کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے خطبہ میں مجلس انصار اللہ کی قیادت تعلیم القرآن کو مخاطب ہو کر بعض ذمہ داریوں سے آگاہ فرمایا۔آپ فرماتے ہیں۔ایک احمدی کو خاص طور پر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے قرآن کریم پڑھنا ہے، سمجھنا ہے، غور کرنا ہے اور جہاں سمجھ نہ آئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وضاحتوں سے یا پھر انہیں اصولوں پر چلتے ہوئے اور مزید وضاحت کرتے ہوئے خلفاء نے جو وضاحتیں کی ہیں ان کو ان کے مطابق سمجھنا چاہئے۔اور پھر اس پر عمل کرنا ہے تب ہی ان لوگوں میں شمار ہوسکیں گے جن کے لئے یہ کتاب ہدایت کا باعث ہے۔دور نہ تو احمدی کا دعوی بھی غیروں کے دعوے کی طرح ہی ہوگا کہ ہم قرآن کو عزت دیتے ہیں۔اس لئے ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے کہ یہ صرف دعویٰ تو نہیں؟ اور دیکھے کہ حقیقت میں وہ قرآن کو عزت دیتا ہے؟ کیونکہ اب آسمان پر وہی عزت پائے گا جو قرآن کو عزت دے گا اور قرآن کو عزت دینا یہی ہے کہ اس کے سب حکموں پر عمل کیا جائے۔قرآن کی عزت یہ نہیں ہے کہ جس طرح بعض لوگ شیلفوں میں اپنے گھروں میں خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر قرآن کریم رکھ لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر ماتھے سے لگا کر پیار کر لیا اور کافی ہو گیا اور جو برکتیں حاصل ہوئی تھیں ہو گئیں۔یہ تو خدا کی کتاب سے مذاق کرنے والی بات ہے۔دنیا کے کاموں کے لئے تو وقت ہوتا ہے لیکن سمجھنا تو ایک طرف رہا، اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ایک دور کوع تلاوت ہی کر سکیں“۔ہر احمدی کو اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کی فکر ہونی چاہئے پس ہر احمدی کو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ خود بھی اور اس کے بیوی بچے بھی قرآن کریم پڑھنے اور اس کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دیں۔پھر ترجمہ پڑھیں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر پڑھیں۔یہ تفسیر بھی تفسیر کی صورت میں تو نہیں لیکن بہر حال ایک کام ہوا ہوا ہے کہ مختلف کتب اور خطابات سے ملفوظات سے حوالے اکٹھے کر کے ایک جگہ کر دیئے گئے ہیں اور یہ بہت بڑا اعلم کا خزانہ ہے۔اگر ہم قرآن کریم کو اس طرح نہیں پڑھتے تو فکر کرنی چاہئے اور ہر ایک کو اپنے بارے میں سوچنا چاہئے کہ کیا وہ احمدی کہلانے کے بعد ان باتوں پر عمل نہ کر کے احمدیت سے دور تو نہیں جارہا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے قرآن