سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 30
30 سبیل الرشاد جلد چہارم سے نہیں دیکھنا چاہئے۔اپنا ایک وقار عہدیدار کا ہونا چاہئے اور یہ نہیں کہ غصے میں مغضوب الغضب ہو کر ایک تو رائے کو رد کر دیا اور مسجد میں یا میٹنگ میں تو تکار بھی شروع ہو جائے۔یا گفتگو ایسے لہجہ میں کی جائے جس سے کسی دوسرے عہد یدار کا یا کسی دوسرے شخص کے بارہ میں جس سے استخفاف کا پہلونکلتا ہو، کم نظر سے دیکھنے کا پہلو نکلتا ہو۔تو ہمارے عہدیداران اور کارکنان کو تو انتہائی وسعت حوصلہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔کھلے دل سے تنقید بھی سنی چاہئے ، برداشت بھی کرنی چاہئے۔اور پھر ادب کے دائرے میں رہ کر ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے اس کا خیال رکھ کر دلیل سے جواب دینا چاہئے۔یہ نہیں کہ میں نے یہ کہہ دیا ہے اس پر عمل نہیں ہورہا تو تم یہ ہو، تم وہ ہو، یہ بڑا غلط طریق ہے۔عہدیدار کا مقام جماعت میں عہد یدار کا ہے خواہ وہ چھوٹا عہد یدار ہے یا بڑا عہدیدار ہے۔پھر قطع نظر اس کے کہ کسی کی خدمت کو لمبا عرصہ گزر گیا ہے یا کسی کی خدمت کو تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔اگر کم عمر والے سے یا عہدے میں اپنے سے کم درجہ والے سے بھی ایسے رنگ میں کوئی گفتگو کرتا ہے جس سے سکی کا پہلونکلتا ہو تو گو دوسر شخص اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے، یعنی جس سے تلخ کلامی کی گئی ہے وہ اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے، اطاعت کے جذبہ سے برداشت بھی کر لے ایسی بات لیکن اگر ایسے عہد یدار کا معاملہ جو دوسرے عہدیداران یا کارکنان کا احترام نہیں کرتے میرے سامنے آیا تو قطع نظر اس کے کہ کتنا Senior ہے اس کے خلاف بہر حال کارروائی ہوگی تحقیق ہوگی۔اس لئے آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنا بھی سیکھیں اور مشورے لینا اور مشوروں میں ان کو اہمیت دینا۔اگر اچھا مشورہ ہے تو ضروری نہیں کہ چونکہ میں بڑا ہوں اس لئے میرا مشورہ ہی اچھا ہوسکتا ہے اور چھوٹے کا مشورہ اچھا نہیں ہو سکتا۔اس کو بہر حال وقعت کی نظر سے دیکھنا چاہئے ،اس کو کوئی وزن دینا چاہئے۔۔کسی کو عہدے کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔عہدہ خوف پیدا کرتا ہے۔۔۔۔اس کے علاوہ عہدیداران کے متعلق بعض عمومی باتیں بھی ہیں جن کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔اللہ کے فضل سے جماعت میں عموماً عہدے کی خواہش کا اظہار کوئی نہیں کرتا اور جب عہدہ مل جاتا ہے تو خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں ادا بھی کر سکتا ہوں یا نہیں۔لیکن بعض سر پھرے بھی ہوتے ہیں۔خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے ضلع میں صحیح کام نہیں ہو رہا۔لکھنے والا لکھتا ہے گو میں جانتا ہوں کہ عہدے کی خواہش کرنا مناسب نہیں لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرے سپر د امارت یا فلاں عہدہ کر دیا جائے تو میں چھ مہینے یا سال میں اصلاح کر سکتا ہوں۔تبدیلیاں پیدا کر دوں گا۔تو بعض تو ایسے سر پھرے ہوتے ہیں جو کھل کر لکھ دیتے ہیں اور بعض بڑی ہوشیاری سے یہی مدعا بیان کر رہے ہوتے ہیں۔تو ان پر میں یہ واضح کر دوں کہ ہمارے نظام میں ، جماعت احمدیہ کے نظام میں اگر کسی انتخاب کے وقت کسی کا نام پیش ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو ووٹ دینے کا حق بھی نہیں رکھتا۔اپنے آپ کو ووٹ دینا بھی اس بات کا اظہار ہے کہ میں اس عہدے کا حقدار