سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 24
سبیل الرشاد جلد چہارم کوشش کر رہے ہیں۔قوم کے سردار قوم کے خادم ہوتے ہیں 24 جماعت احمدیہ میں عہدیدار اسٹیجوں پر بیٹھنے یا رعونت سے پھرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ اس تصور سے بنائے جاتے ہیں کہ قوم کے سردار قوم کے خادم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جماعت کو اکٹھا رکھنے کے لئے ایک رہنما اصول اس آیت میں بتا دیا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔تو اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوبی کی وجہ سے کہ آپ کے دل میں لوگوں کے لئے نرمی اور محبت کے جذبات تھے لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہوتے تھے اور آپ کے پاس آتے تھے تو پھر میں اور آپ، ہم کون ہوتے ہیں جو محبت اور پیار کے جذبات لوگوں کے لئے نہ دکھا ئیں اور امید رکھیں کہ لوگ ہماری ہر بات مانیں۔ہمیں تو اپنے آقا کی اتباع میں بہت بڑھ کر عاجزی، انکساری، پیار اور محبت کے ساتھ لوگوں سے پیش آنا چاہئے۔کیونکہ خلیفہ وقت کے لئے تو ہر ملک میں، ہر شہر میں یا ہر محلے میں جا کر لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا مشکل ہے۔یہ نظام جماعت قائم ہے جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔عہد یداران خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں وہ تمام عہد یدار چاہے ذیلی تنظیموں کے عہدیدار ہوں چاہے جماعتی عہد یدار ہوں ،خلیفہ وقت کے نمائندے کے طور پر اپنے اپنے علاقہ میں متعین ہیں اور ان سے یہی امید کی جاتی ہے اور یہی تصور ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔اگر وہ اپنے علاقہ کے احمدیوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے، ان کی غمی خوشی میں شریک نہیں ہور ہے، ان سے پیار محبت کا سلوک نہیں کر رہے، یا اگر خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملہ میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے تو بغیر تحقیق کے مکمل طریق کے جواب دے دیتے ہیں یا کسی ذاتی عناد کی وجہ سے، جو خدا نہ کرے ہمارے کسی عہدیدار میں ہو، غلط رپورٹ دے دیتے ہیں تو ایسے تمام عہد یدار گنہگار ہیں۔ابھی گزشتہ دنوں بغیر مکمل تحقیق کے ایک رپورٹ چند احمدیوں کے بارہ میں مقامی جماعت کی طرف سے مرکز میں آئی کہ انہوں نے فلاں فلاں جماعتی روایات سے ہٹ کر کام کیا ہے اور جماعتی قواعد کے مطابق اس کی سزا اخراج از نظام جماعت تھی۔جب مرکزی دفتر نے مجھے لکھا اور ان اشخاص کو اخراج از نظام جماعت کی سزا ہوگئی۔تو جن کو سزا ہوئی تھی انہوں نے شور مچایا کہ ہمارا تو اس کام سے کوئی واسطہ ہی نہیں ، ہم تو بالکل معصوم ہیں ، اور کسی طرح بھی ہم ملوث نہیں ہیں۔تو پھر مرکز نے نئے سرے سے کمیشن خود مقرر کیا اور تحقیق کی تو پتہ چلا کہ صدر جماعت نے بغیر مکمل تحقیق کے رپورٹ کر دی تھی اور اب صدر صاحب کہتے ہیں غلطی سے نام چلا