سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 408

408 سبیل الرشاد جلد چهارم ایک امام نہ ہوانسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔دنیا کا بھی جو زندگی کا سفر ہے اس میں ایک امام ہونا ضروری ہے جو صحیح رہنمائی کرتار ہے۔پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے۔اس سے صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفروں میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔غافل نہیں ہوتا۔پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہئے اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے“۔فرمایا کہ انظر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس سے اتباع کا سبق ملتا ہے کہ جس طرح پر اونٹ میں تمدنی اور اتحادی حالت کو دکھایا گیا ہے اور ان میں اتباع امام کی قوت ہے۔اسی طرح پر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتباع امام کو اپنا شعار بناوے۔کیونکہ اونٹ جو اس کے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔كَيْفَ خُلِقَتْ میں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو اہل کی مجموعی حالت سے پہنچتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 394-393 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) خلافت جیسے انعام کی قدر کریں پس اس زمانے میں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود کو بھیجا اور ہمیں پھر انہیں ماننے کی توفیق بھی عطا فرمائی اور پھر آپ کے بعد خلافت کے جاری نظام سے بھی نوازا۔ہمیں اس انعام کی قدر کرنی چاہئے اور اس روح کو سمجھنا چاہئے جو خلافت کے نظام میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جو میں مفہوم بیان کر رہا ہوں کہ میرے نام پر افراد جماعت سے بیعت لینے والے افراد آتے رہیں گے۔(ماخوذ از الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306) یعنی خلافت آپ کی نیابت میں آپ کے نام پر بیعت لے گی۔جب آپ کے نام پر بیعت لی جارہی ہے تو پھر خلافت کی بیعت اور اطاعت کی کڑی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جا کے ملتی ہے۔پس یہ جو اقتباس میں نے پڑھا ہے اس میں نبوت اور امامت کا جو تعلق آپ نے ایل کی خصوصیات کے ساتھ جوڑا ہے اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد خلافت کے جاری نظام سے جڑے رہنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے والوں کی روحانی بقا اور ترقی ہے اور یہ ضمانت ہے۔اس میں جماعت کی ترقی اسی صورت میں ہے جب ہم خلافت کے نظام سے جڑے رہیں گے۔اسی میں شیطانی حملوں سے بچنے کے سامان بھی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام تمہاری ڈھال ہے۔(الصحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب يقاتل من وراء الامام ويتقى به حدیث 2957) پس اس ڈھال کے پیچھے رہو گے تو بچت کے سامان ہیں اور ڈھال کے پیچھے رہنا یہی ہے کہ کامل اطاعت کرو۔اپنی لائنوں پر چلو۔اس قطار میں چلو جو تمہارے لئے مقرر کر دی گئی ہے۔اس سے ذرا باہر نکلے تو بھٹکنے کا خطرہ ہے گنے کا خطرہ ہے۔