سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 404

سبیل الرشاد جلد چهارم 404 عملی حالت کو درست رکھتی ہیں وہاں دوسروں کے لئے بھی مضبوطی ایمان کا باعث بنتی ہیں۔پس یہ چیز ہے جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عملی قوت عملی اصلاح کے لئے دوسری چیز جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ علمی قوت ہے یا علم کا ہونا ہے۔اس بارے میں پہلے ذکر ہو چکا ہے، دوبارہ بتا دوں کہ غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ گناہ چھوٹے ہوتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن گناہوں کو انسان چھوٹا سمجھ رہا ہوتا ہے وہ گناہ اُس کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتا ہے۔اگر زیادہ ہیں تو جو زیادہ گناہ ہیں وہ دل و دماغ میں بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ تو کوئی گناہ ہے ہی نہیں۔چھوٹی سی بات ہے یا ایسا معمولی گناہ ہے جس کے بارے میں کوئی زیادہ باز پرس نہیں ہو گی۔خود ہی انسان تصور پیدا کر لیتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 453 خطبہ جمعہ بیان فرمود و 10 جولائی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) اسائیلم سیکرز ،غلط بیانی سے کام نہ لیں ابھی گزشتہ خطبوں میں شاید دو ہفتے پہلے ہی میں نے توجہ دلائی تھی کہ اسائلم سیکر ز جو ہیں، وہ بھی یہاں آ کر جب غلط بیانی کرتے ہیں اور اپنا کیس منظور کروانے کے لئے جھوٹ کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں۔اور نہ صرف اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کی ساکھ پر بھی حرف آرہا ہوتا ہے۔لیکن مجھے کسی نے بتایا کہ خطبہ کے بعد یہاں سے ایک اسائکم سیکر وکیل کے پاس گیا اور وکیل صاحب بھی احمدی ہیں۔وہ بھی شاید خطبہ سن رہے تھے۔اور وکیل شاید کوئی جماعتی خدمت بھی کرتے ہیں۔اُس وکیل نے اس اسائکم لینے والے کو کیس تیار کرتے ہوئے غلط بیانی سے بعض باتیں لکھ دیں کہ یہ غلط باتیں بیچ میں ڈالنی پڑیں گی۔حالانکہ ان کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔اور مؤکل کو کہہ دیا کہ اس کے بغیر کیس بنتا ہی نہیں۔پھر تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔اس لئے ایسی غلط بیانی کرنا ضروری ہے۔حالانکہ میں نے واضح طور پر بتایا تھا کہ کسی غلط بیانی اور جھوٹ سے کام نہیں لینا اور احمدیوں پر ظلموں کے واقعات تو ویسے ہی اتنے واضح اور صاف ہیں اور اب دنیا کو بھی پتا ہے کہ اس کے لئے کسی وکیل کی ہشیاری اور چالا کی اور جھوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔عہدیداران جھوٹ سے بچنے کی تلقین کریں پس مربیان کو بھی اور عہدیداران کو بھی بار بار جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرنی ہوگی۔بار بار یہ ذکر کرتے چلے جانا ہوگا کہ کوئی گناہ بھی بڑا اور چھوٹا نہیں ہے۔گناہ گناہ ہے اور اس سے ہم نے بچنا ہے۔ہر جھوٹ جھوٹ ہے اور اس جھوٹ کے شرک سے ہم نے بچنا ہے۔اگر اپنا تعلق خدا تعالیٰ سے مضبوط ہے تو پھر فکر کی ضرورت