سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 378
378 سبیل الرشاد جلد چہارم آپ نے اس نو، دس ماہ کے عرصہ میں کیا کام کیا ہے۔موصوف نے عرض کیا کہ تمام مجالس کو تربیت کا پروگرام بھجوایا ہے اور ہدایت دی ہے کہ اس پر عمل کریں۔حضور انور نے فرمایا: کیا آپ کے پاس یہ ریکارڈ ہے کہ کتنے انصار با قاعدہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔اس پر موصوف نے عرض کیا کہ 411 انصار میں سے 272 انصار با قاعدہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔باقی با قاعدہ نہیں ہیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ سب کو باقاعدگی سے پانچوں نمازیں ادا کرنی چاہئیں۔انصار کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ سب کو نمازوں کی ادائیگی میں باقاعدہ ہونا چاہئے۔قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ ہونی چاہئے اور روزانہ تلاوت ہونی چاہئے۔MTA پر خطبات سننے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔حضورانور نے فرمایا کہ انصار کو تبلیغ کا پروگرام بنا کر دیں اور ان کولٹر بچر دیں اور ان کو باہر نکا لیں۔یہ اپنے رابطے کریں۔تعلقات بنائیں اور تبلیغ کریں اب احساس کمتری سے باہر نکلیں اور کام کریں۔حضور انور نے فرمایا: آپ کہتے ہیں کہ 40 ہزار لیف لیٹس انصار نے تقسیم کیا ہے۔اس میں سے 20 ہزار تو ایک آدمی نے کر دیا ہے باقی سب نے مل کر بیس ہزار کیا ہے۔حضور انور نے فرمایا: مجلس انصار الله یو کے نے کتاب Life of Muhammad پچاس ہزار کی تعداد میں تقسیم کی ہے اور اسی طرح کتاب World Crisis and the Pathway to Peace چالیس ہزار کی تعداد میں تقسیم کی ہے۔انہوں نے یہ کتاب بڑی تعداد میں شائع کروائی ہے اور پھر با قاعدہ منصوبہ بندی کر کے اسے تقسیم کیا ہے۔حضور انور نے فرمایا انصار اللہ کے نام سے چیریٹی واک ہونی چاہئے۔اسی طرح یہاں پودے لگانے کا شوق ہے۔حکومت کے متعلقہ محکمہ سے، انتظامیہ سے با قاعدہ بات کر کے پھر درخت لگائیں، پودے لگائیں اور اسی طرح دوسرے خدمت خلق کے کام کریں۔جب پریس اور میڈیا کے ذریعہ آپ کے انسانی خدمت کے اور فلاح و بہبود کے کام سامنے آئیں گے تو اسلام کا ایک اچھا اور خوبصورت چہرہ ان لوگوں کے سامنے آئے گا اور ان کو اسلام پر دوسرے انتہاء پسندوں کے رویہ کی وجہ سے جو اعتراضات ہیں وہ دور ہوں گے۔اس لئے جب آپ مختلف چیریٹی آرگنا ئز یشنز کو رقوم کے چیک پیش کریں تو باقاعدہ ایک تقریب کر کے دیں اور میڈیا والوں کو بھی بلائیں اور دوسری لوکل انتظامیہ بھی ہو۔یہ ایسا اس لئے نہیں ہے کہ ہم کوئی احسان کر رہے ہیں۔بلکہ صرف اس لئے ہے کہ اسلام کی جو بھیانک تصویر بنی ہوئی ہے اور جو خصوصاً میڈیا نے بنائی ہوئی ہے وہ ختم ہوتی ہے۔یہ کوئی دکھاوا نہیں ہے۔بلکہ نیک نیتی سے اسلام کا حسین چہرہ غیروں کے سامنے پیش کرنا ہے۔حضور انور نے فرمایا چیریٹی واک سے اور ڈونیشن سے آپ جور قوم اکٹھی کریں اس میں سے 30 فیصد