سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 366

سبیل الرشاد جلد چہارم 366 جہاں بھی نوجوان ایکٹو (active) ہیں اللہ کے فضل سے مخالفین کا منہ بند کر رہے ہیں۔ނ پھر ہم میں سے ہر ایک کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننا کیوں ضروری ہے۔تیرہ چودہ سال کے بچے بھی یہ سوال کرتے ہیں اور والدین اُن کو صحیح طرح جواب نہیں دیتے۔اس بارے میں میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی بیان کر دیتا ہوں۔یہ ایک تفصیلی ارشاد ہے۔اس کو ذیلی تنظیمیں بعد میں اس کے حصے بنا کر سمجھانے کے لئے استعمال کر سکتی ہیں اور اس۔مزید رہنمائی بھی لے سکتی ہیں۔ایک موقع پر بعض مولویوں نے آپ سے سوال کیا کہ ہم اب نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لاتے ہیں تو پھر ہمیں آپ کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ: دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اُس کے رسول اور کتاب کو ماننے کا دعوی کر کے اُن کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوۃ، تقویٰ طہارت کو بجا نہ لاوے اور اُن احکام کو جو تزکیۂ نفس، ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے "۔مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے لیکن یہ ساری نیکیاں نہ بجالائے، برائیوں کو نہ چھوڑے، نیکیوں کو اختیار نہ کرے تو فرمایا کہ وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔" اور اُس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آ سکتا۔اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرض رسالت سے بے خبر محض ہے"۔یعنی کہ اُس کو پتہ ہی نہیں کہ نبوت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اغراض ہیں؟ " اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اُس کو سچا مسلمان، خدا اور اُس کے رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں احکام دیئے ہیں اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اُس کے نہ ماننے والے اور اُس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔قرآن اور حدیث کے الفاظ میں فرق ( جو کہ فرق نہیں بلکہ بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے ) صرف یہ ہے کہ قرآنِ شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعود کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اس شخص کی بعثت کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اُس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟" فرمایا کہ : " خلفاء کے آنے کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک لمبا کیا ہے اور اسلام میں یہ ایک شرف اور خصوصیت ہے کہ اُس کی تائید اور تجدید کے واسطے ہر صدی پر مجدد آتے رہے اور آتے رہیں گے۔دیکھو