سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 359
سبیل الرشاد جلد چہارم 359 عہد یدار کا اپنا قول وفعل ایک ہو ایک بہت بڑی ذمہ داری ہر امیر کی، ہر صدر جماعت کی ، ہر عہدیدار کی تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ( آل عمران: 111) ہے کہ نیکی کی ہدایت کرنا اور بدی سے روکنا۔پس تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَر کو ہمیشہ ہر عہد یدار کو یادرکھنا چاہئے اور یہ اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہر عہد یدار خود اپنا جائزہ لیتے ہوئے اپنے قول و فعل کو ایک نہیں کرتا۔اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا نہیں کرتا۔تقویٰ کے اُن راستوں کی تلاش نہیں کرتا جن کی طرف ہمیں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔اور تقویٰ کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ صرف چند نیکیاں بجالانا یا چند برائیوں سے رکنا، یہ تقویٰ نہیں ہے۔بلکہ تمام قسم کی نیکیوں کو اختیار کرنا اور ہر چھوٹی سے چھوٹی برائی سے رکنا، یہ تقویٰ ہے۔پس یہ معیار ہیں جو حاصل کر کے ہم نیکیوں کی تلقین کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے بن سکتے ہیں اور امانت کا حق ادا کرنے والے بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ افراد جماعت کو بھی ، تمام عہدیداران کو بھی ، جو منتخب ہو چکے ہیں یا منتخب ہونے والے ہیں، اور منتخب ہو کر آئیں گے اور مجھے بھی اپنی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔" (الفضل انٹر نیشنل 3 مئی 2013ء) جو ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اسے اپنے پورے دل، پوری جان، نیک نیتی انتہائی درجہ کی ایمانداری اور متانت سے پورا کرنے کی کوشش کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 16 جون 2013ء کو مجلس شوری انگلستان کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عہد یداران کو یوں نصیحت فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات قرآنی (ال عمران 160-161) میں شوری کی اہمیت اور لوگوں سے حسن معاملہ کرنے کا مضمون بیان فرمایا ہے نیز اس سلسلہ میں کچھ ہدایات بھی دی ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس نے اپنی خاص رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے تیرے دل میں تمام مخلوق کے لیے نرمی اور شفقت کا خاصہ رکھ دیا ہے۔یقینا اگر آپ کا دل سخت گیر ہوتا تو لوگ اس طرح آپ کے ارد گرد محبت و عقیدت کے ساتھ ہرگز جمع نہ ہوتے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے بھی آگاہ فرما دیا کہ آپ کے متبعین غلطیاں بھی کریں گے اور پھر آپ کے پاس معافی کے خواستگار ہوتے ہوئے بھی آئیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم